خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 410 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 410

خطبات مسرور جلد ششم 410 (41) خطبہ جمعہ فرموده 10 اکتوبر 2008 فرمودہ مورخہ 10 اکتوبر 2008ء بمطابق 10 اخاء 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک۔پیرس (فرانس) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: يبَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِى سَوُا تِكُمُ وَرِيْشًا۔وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ ايَتِ اللهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ۔(سورة الاعراف (27) الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ فرانس کو بھی پہلی مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی۔اللہ کرے کہ یہ مسجد مزید مسجدوں کے لئے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو۔ملکی قوانین بھی راہ میں حائل نہ ہوں اور احباب جماعت کے اندر بھی مساجد کی تعمیر کے لئے قربانیوں کا شوق مزید بڑھے۔اور تعمیر کے لئے صرف شوق ہی نہیں بلکہ وہ روح بھی پیدا ہو جس سے وہ مساجد کی تعمیر کے مقاصد کو پورا کرنے والے ہوں۔اس مسجد کی تعمیر نے یقیناً افراد جماعت کو یہ سبق دیا ہوگا کہ اگر ارادہ پختہ ہو اور لگن سچی ہو تو وقت آنے پر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے تمام روکیں دُور فرما دیتا ہے۔یہ جگہ جہاں اب یہ خوبصورت مسجد تعمیر کی گئی ہے گو میناروں وغیرہ کی اونچائی کے بارہ میں کونسل نے علاقہ کے لوگوں کے شور مچانے پر بعض یہاں پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں لیکن کم از کم اس جگہ مسجد کے نام کے ساتھ ہمیں ایک پر اپر (Proper) مسجد بنانے کی ، باقاعدہ مسجد بنانے کی اجازت تو ملی اور موجودہ ضرورت کے لحاظ سے عورتوں اور مردوں کو نمازیں ادا کرنے کے لئے ، جمعہ پڑھنے کے لئے جگہ میسر آ گئی۔آج تو باہر سے بھی کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں اس لئے جگہ چھوٹی نظر آ رہی ہے۔فرانس کی جماعت کے لحاظ سے، اس علاقہ کی جماعت کے لحاظ سے مسجد کی یہ جگہ کافی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ میناروں کی اونچائی کا مسئلہ بھی آہستہ آہستہ حل ہو جائے گا۔اس جگہ پر جیسا کہ آپ جانتے ہیں پہلے ایک عارضی ہال تھا جس میں نمازیں پڑھی جاتی تھیں۔علاقہ کے لوگوں کے اکثر اعتراض بھی آتے رہتے تھے یہاں تک کہ ایک وقت میں وہی ہمارے مہربان میئر صاحب جو اس وقت بھی یہاں ابھی آئے ہوئے تھے وہ بھی ایک دن غصہ میں بھرے ہوئے آئے اور یہاں نمازوں پر پابندیاں لگانے کی ، اس ہال کو گرانے کی دھمکیاں بھی دیں۔لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرماتے ہوئے ان لوگوں کے دلوں کو اپنے فضل سے بدلا تو انہی لوگوں نے باقاعدہ مسجد کی اجازت بھی دے دی۔بلکہ مجھے یاد ہے کہ یہی میئر صاحب جو ایک زمانہ میں جماعت کے بارے میں اچھے خیالات نہیں رکھتے