خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 313 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 313

313 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده یکم اگست 2008 فیصل آباد جانے کے لئے میں بس کے اڈے پہ آیا تو ان دنوں میں بہت رش ہوتا ہے۔جنہوں نے ربوہ کا جلسہ دیکھا ہو ان کو پتہ ہو گا۔میرے ساتھ میرے ایک عزیز بھی تھے تو آدھا گھنٹہ انتظار کے بعد میں نے کہا چلو بہتر یہ ہے کہ سائیکل پر چلتے ہیں۔ہم دونوں گھر آئے وہاں سے سائیکل لیا اور سائیکل پر بیٹھ کے آرام سے فیصل آباد پہنچے گئے۔اگلے دن میرا پیپر تھایا جو بھی ایمر جنسی تھی۔تو اگر ہمیں پہلے عادت نہ ہوتی تو شاید چھ گھنٹے تک بس کے انتظار میں کھڑے رہنا پڑتا، تو بڑا فائدہ ہو جاتا ہے سائیکل سواری کا۔بہر حال اس سال گھانا کے جلسہ پر جیسا کہ میں نے کہا، افریقہ نے پہل کی ہے۔برکینا فاسو سے 300 نو جوانوں کا قافلہ آیا تھا اور انہوں نے سولہ سترہ سوکلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔امیر صاحب جرمنی گو کہ اپنے سائیکل سواروں کو بڑا پروٹیکٹ (Protect) کر رہے تھے کہ ہماری سڑکوں پر رش بڑا ہوتا ہے، اس لحاظ سے ان کا بڑا کارنامہ ہے۔لیکن برکینا فاسو کے ان افریقن نوجوانوں کا بھی بڑا کارنامہ ہے کہ وہاں ان کی سڑکیں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں اور سائیکل بھی ٹوٹے ہوئے تھے۔بلکہ وہاں کے اخباروں نے خبر لگائی کہ کیا یہ ٹوٹے ہوئے سائیکل اپنی منزل تک پہنچ سکیں گے۔پھر بیچاروں کو خوراک کی آسانیاں بھی پوری طرح میسر نہیں تھیں۔پھر گرمی بھی بے انتہا تھی۔تو یہ ساری چیزیں اگر دیکھیں تو ان لڑکوں نے بڑی ہمت کی ہے۔بہر حال اگر دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو خلافت جوبلی کے جلسوں میں سائیکل سواروں کی شمولیت کے لحاظ سے نمبر ایک بورکینا فاسو کے خدام ہیں۔لیکن سائیکل سفر کی جو رو چلی ہے اسے اب جاری رہنا چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا سائیکل سفر بڑا فائدہ مند چیز ہے۔افریقہ کے تجربہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے اور جرمنی کے سائیکل سواروں سے بھی، کہ تبلیغ کے راستے بھی بڑے کھلتے ہیں۔جماعت کا تعارف بڑھتا ہے۔جرمنی میں بھی سفر شروع کرنے سے پہلے میڈیا نے وہاں جرمنی کے ایک شہر سے کوریج دی، اور پھر جب یہاں پہنچے ہیں تو یہاں بھی میڈیا نے ان سائیکل سواروں کو کافی کوریج دی تھی۔جو یقیناً جماعت کے تعارف کا باعث بنی ہے۔اللہ تعالیٰ جرمنی سے آنے والے نو جوانوں کے اخلاص و وفا کو بھی بڑھائے۔آج ہم جماعت کے نو جوانوں اور بچوں میں جو یہ قربانی دیکھتے ہیں تو یہ ان کا خلافت سے اخلاص و وفا کا اظہار ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔خدا تعالیٰ ان کو مزید ا خلاص و وفا میں بڑھائے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مختلف نظارے ہم نے دیکھے اور اس کا اثر جیسا کہ میں نے کہا غیر احمدی مہمانوں پر بھی بہت ہوا اور کئی ایک نے اس کا اظہار بھی کیا، چند ایک میں نے مثالیں دی ہیں۔بعض مہمانوں نے یہ بھی اظہار کیا کہ جماعت کی وفا اور اخلاص ہی ہے اگر قوموں میں پیدا ہو جائے تو دنیا میں یہ چیزیں انقلاب لایا کرتی ہیں۔بعضوں نے جواظہار کیا بالکل ٹھیک بات کی ہے لیکن کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ جب یہ جذبات دنیا کے سامنے آئیں تو حاسد بھی پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہنے کے لئے ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یا درکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہر شر سے ہر احمدی کو بچائے۔یہ تمام انتظامات جو جلسہ سالانہ کے تھے اور ہوتے ہیں یہ ہم سب جانتے ہیں کہ والنٹیئر ز کے ہوتے ہیں ان سے مختلف شعبہ جات میں کام لیا جاتا ہے۔35-40 شعبہ جات مردوں میں تھے اور اتنے