خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 12
خطبات مسرور جلد ششم 2 12 خطبہ جمعہ فرموده 11 جنوری 2008 فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2008ء بمطابق 11 صلح 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايتكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرة: 130) گزشتہ خطبہ میں وقف جدید کے اعلان کی وجہ سے اس آیت کے مضمون کو جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے جاری نہیں رکھ سکا تھا۔آج میں پھر اسی آیت کے مضمون کی طرف لوٹ رہا ہوں۔اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی جو بیان ہوئی ہے۔گزشتہ سے پیوستہ خطبہ میں میں نے پہلا حصہ بیان کیا تھا۔اس کا جو بقیہ حصہ ہے وہ بیان کرتا ہوں۔یعنی دعا میں اس عظیم رسول کے لئے چار چیزیں مانگی تھیں۔پہلی تو تھی۔يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ایتک اس کا بیان ہو گیا ہے۔اب ہے يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ یعنی انہیں کتاب کی تعلیم دے اور اس کی حکمت بھی سکھائے اور ان کا تزکیہ بھی کرے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی۔جیسا کہ میں نے کہا جو آیات تو اس عظیم رسول پر نازل فرمائے وہ عظیم رسول اُن اتری ہوئی آیات کی ان پر جن لوگوں کے لئے مبعوث ہوا ہے، تلاوت کرے گا۔اب ان آیات کی تلاوت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو نشان بھیجے گئے ہیں یا جو آیات نازل کی گئی ہیں جن میں عبرت کے واقعات بھی ہیں ، جن میں نصیحت بھی ہے، عذاب کی خبریں بھی ہیں ، صرف پڑھ کر سنادے بلکہ جیسا کہ گزشتہ سے پیوستہ خطبے میں یہ بیان کر چکا ہوں کہ آئندہ آنے والوں کے لئے یہ نمونے جو دیئے گئے تھے وہ ایک سبق ہیں۔اس لئے یہ دعا کی کہ یہ عظیم نبی جو تو آئندہ زمانے کے لئے مبعوث کرنے والا ہے اور جس کے لئے میں دعا کرتا ہوں کہ بنی اسماعیل میں سے مبعوث ہو وہ نبی صرف اپنی زندگی تک ہی ان آیات کی تلاوت کرنے والا نہ ہو، یا اس کے زمانے کے لوگ ہی اس تعلیم سے فائدہ اٹھانے والے نہ ہوں، اپنے وقت کے لوگوں کو ہی صرف تعلیم دینے والا نہ ہو بلکہ یہ عظیم نبی چونکہ قیامت تک کے لئے مبعوث ہونا ہے اس لئے یہ سب تعلیم جو ہے یہ کھی ہوئی ملے۔کتاب کی شکل میں ہوتا کہ قیامت تک اس پر عمل کرنے والے پیدا ہوتے رہیں۔