خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 481 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 481

481 خطبه جمعه فرموده 21 نومبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم پس اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ ایک تو کبھی ایسا موقع ہی پیدا نہ ہو کہ ہمارے دل میں کبھی نظام جماعت کے خلاف میل آئے۔ہمارے اعمال ہی ایسے ہوں جو اللہ تعالیٰ کی منشاء اور حکموں کے مطابق ہوں اور نظام کو ہمارے سے کبھی شکایت پیدا نہ ہو۔اور اگر کبھی کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے جو ہماری کسی بشری کمزوری کی وجہ سے کسی امتحان میں ڈال دے تو کبھی ایسا نتیجہ نہ نکلے جس سے ہمارے ایمان کو ٹھوکر لگے اور نظام جماعت یا نظام خلافت کے بارے میں کبھی بدظنیاں پیدا ہوں اور یہ سب کچھ نہیں ہوسکتا جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کے بعد ہمیں لا پرواہ نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی تلاش پہلے سے بڑھ کر کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے پرانے انبیاء کی اور قوموں کی مثال اس لئے دی ہے کہ وہ بھی یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے مان لیا اب آئندہ ہمیں کسی ہدایت کی ضرورت نہیں۔یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اسی حوالے سے کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آئندہ آنے والی جو ہدایت رکھی تھی اسے نہ مان کر وہ بگڑ گئے۔جب بدظنیاں پیدا ہوتی ہیں تو صرف اپنے علم اور سوچ کی وجہ سے انسان کا ذہن محدود ہو جاتا ہے اور ان کے بگڑنے کی بھی یہی وجہ تھی اور نہ صرف ان کے دل ٹیڑھے ہو گئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مغضوب اور ضال کے زمرہ میں شامل کیا۔اللہ تعالیٰ نے جو ہر نماز کی ہر رکعت میں ہمیں سورۃ فاتحہ پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے وہ اس لئے ہے کہ ان لوگوں سے سبق حاصل کرو اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت مانگتے رہو۔اپنے دلوں کو ٹیڑھا ہونے سے بچاؤ ورنہ جس طرح اُن کی دین کی آنکھ ختم ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو بھول گئے، تم نہ کہیں بھول جانا۔لیکن بدقسمتی سے اس پانچ وقت کی نمازوں کی دعا کے باوجود آج مسلمانوں کی اکثریت انہی قدموں پر چل رہی ہے جو خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ بدظنیاں اور اپنے آپ کو عالم سمجھنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” سورۃ فاتحہ میں خدا نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة : 6-7) اس جگہ احادیث صحیحہ کی رو سے بکمال تواتر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد بد کار اور فاسق یہودی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح کو کا فر قرار دیا اور قتل کے در پے رہے اور اس کی سخت تو ہین و تحقیر کی اور جن پر حضرت عیسی نے لعنت بھیجی جیسا کہ قرآن شریف میں مذکور ہے اور الضالین سے مراد عیسائیوں کا وہ گمراہ فرقہ ہے جنہوں نے حضرت عیسی کو خدا سمجھ لیا اور تثلیث کے قائل ہوئے اور خون مسیح پر نجات کا حصر رکھا اور ان کو زندہ خدا کے عرش پر بٹھا دیا۔اب اس دُعا کا مطلب یہ ہے کہ خدایا ایسا فضل کر کہ ہم نہ تو وہ یہودی بن جائیں جنہوں نے مسیح کو کا فر قرار دیا تھا اور اُن کے قتل کے در پہ ہوئے تھے اور نہ ہم مسیح کو خدا قرار دیں اور تثلیث کے قائل ہوں، چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں اس اُمت میں سے مسیح موعود آئے گا۔اور بعض یہودی صفت