خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 21
خطبات مسرور جلد ششم 21 خطبه جمعه فرموده 11 جنوری 2008 لَا رَيْبَ فِيهِ یعنی قرآن اپنی ذات میں ایسی صورت و مدلل و معقول پر واقع ہے کہ کسی نوع کے شک کرنے کی اس میں گنجائش نہیں۔یعنی وہ دوسری کتابوں کی طرح بطور کھا اور کہانی کے نہیں۔بلکہ ادلہ یقینیہ و براہین قطعیہ پرمشتمل ہے“ یعنی اس میں یقینی دلائل بھی موجود ہیں اور بڑے صاف ستھرے اور قطعی طور پر روشن نشان موجود ہیں۔اور اپنے مطالب پر نجمہینہ اور دلائل شافیہ بیان کرتا ہے“۔جو بھی اس کا مطلب ہے مکمل طور پر کھل کر ان کی دلیلوں کے ساتھ ، کافی شافی دلیل کے ساتھ ان کو بیان کرتا ہے۔اور فی نفسہ ایک معجزہ ہے جو شکوک اور شبہات کے دور کرنے میں سیف قاطع کا حکم رکھتا ہے۔ایک ایسا معجزہ ہے جو ہر قسم کے شکوک و شبہات دور کر دیتا ہے اور ایک تیز دھار تلوار کا حکم رکھتا ہے کہ اگر اس طرح اس کو سمجھا جائے تو جو متقی ہے، جو اس کو سمجھنے کی کوشش کرے گا اس کا ہر شک، ہر شبہ کٹ جائے گا، ختم ہو جائے گا۔اور خدا شناسی کے بارے میں صرف ہونا چاہئے کے ظنی مرتبہ میں نہیں چھوڑتا“۔اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں یہ نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ ہونا چاہئے۔بلکہ ہے کے یقینی اور قطعی مرتبے تک پہنچا تا ہے۔اس بات پر قائم کرتا ہے کہ خدا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” یہ تو علل ثلاثہ کی عظمت کا بیان فرمایا اور پھر باوجود عظیم الشان ہونے ان ہرسہ علتوں کے ان سب وجوہات کے، جو تینوں وجوہات بیان کی ہیں جن کو تاثیر اور اصلاح میں دخل عظیم ہے علت رابعہ چوتھی جو اس کی وجہ ہے، جو اس کا اصل مقصد ہے۔یعنی علت غائی ، نزول قرآن شریف کو جو را ہنمائی اور ہدایت ہے صرف متقین میں منحصر کر دیا۔یعنی یہ باتیں ان لوگوں کو پہنچیں گی ان کو یہ باتیں سمجھ آئیں گی جو متقی ہوں گے۔وہ لوگ عام لوگ نہیں۔جب تک تقویٰ نہ ہوا نہیں کوئی نہیں لے سکتا۔اور فرمایا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کہ یہ کتاب صرف ان جواہر قابلہ کی ہدایت کیلئے نازل کی گئی ہے جو بوجہ پاک باطنی و عقل سلیم و هم مستقیم و شوق طلب حق و نیت صحیح انجام کار درجه ایمان و خدا شناسی و تقوی کامل پر پہنچ جائیں گے۔یعنی یہ کتاب ان لوگوں کو ہدایت دے گی ، ساری نصیحتیں ان لوگوں کو پہنچیں گی جو ایسے لوگ ہیں جو اس قابل ہیں جو ہدایت پائیں۔اور کس طرح اس قابل بنیں گے جن کے اندرونے پاک ہوں گے، جن کو عقل ہوگی اور فہم ہوگا۔جو سیدھے راستے پر چلنے والا ہو اور حق کو پانے کے لئے ایک شوق ہوگا، طلب ہوگی اور صحیح نیت ہوگی تو پھر آخر کار ان کو خدا تعالیٰ کی پہچان ہوگی اور پھر وہ تقویٰ جو کامل ہے اس تک پہنچ جائیں گے۔اگر یہ چیزیں نہیں ہیں تو قرآن کریم کی کسی کو سمجھ نہیں آ سکتی۔فرمایا: ”یعنی جن کو خدا اپنے علیم قدیم سے جانتا ہے کہ ان کی فطرت اس ہدایت کے مناسب حال واقعہ ہے اور وہ معارف حقانی میں ترقی کر سکتے ہیں وہ بالآخر اس کتاب سے ہدایت پا جائیں گے اور بہر حال یہ کتاب ان کو پہنچ رہے گی۔اور قبل اس کے جو وہ مریں خدا ان کو راہ راست پر آنے کی توفیق دے دے گا۔