خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 20
خطبات مسرور جلد ششم 20 خطبہ جمعہ فرموده 11 جنوری 2008 خلاصہ توحید کا بیان ہے ، تو حید کے ارد گرد گھومتی ہے۔جبکہ اس کو اگر پڑھیں تو مسلمانوں کو بگاڑنے کے لئے کوشش کی گئی ہے اور بڑی ہوشیاری سے شروع میں ہی تثلیث کا بیان کر دیا گیا ہے۔لیکن اسی آیت میں توحید کا بیان کر کے تثلیث کو تو حید بنا دیا۔ایک مسلمان جس کو بنیادی علم ہے وہ کس طرح اس کو قبول کر سکتا ہے یا تو ہوشیاری یہ ہوتی ہے کہ پہلے کچھ نہ کچھ تو حید کا بیان کیا جاتا پھر گھوم پھرا کر اس میں تثلیث کا کچھ حصہ ڈال دیا جا تا۔تو بے وقوفی تو یہاں تک ہے کہ شروع میں ہی ایک ہی آیت میں جو انہوں نے اپنی طرف سے آیت بنائی ہے اس میں تو حید اور تثلیث کا بیان ہے۔بہر حال اس کو یہاں بیان کرنے کی تو ضرورت نہیں۔اس میں فضول باتیں ہی ہیں۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پڑھتا ہوں۔اس بات کی وضاحت میں کہ جو الہام الہی ہے اس کی جو ہدایت ہے ہر ایک طبیعت کے لئے نہیں ہے۔بلکہ الہام الہی کا یا اللہ تعالیٰ کی تعلیم کا اُن طبائع پر اثر ہوتا ہے جن کی طبیعتیں صاف ہوں۔ہر حکم جو ہے، جو تعلیم اترتی ہے ان لوگوں کے لئے ہے جو پاک طبیعت رکھتے ہیں ، جو صفت تقویٰ اور صلاحیت سے متصف ہیں۔آپ فرماتے ہیں : ” اس آیت پر یعنی الم۔ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقره آیت:3) پر غور کرنا چاہئے کہ کس لطافت اور خوبی اور رعایت ایجاز سے خدائے تعالیٰ نے وسوسہ مذکور کا جواب دیا ہے یعنی اگر یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہر ایک اس تعلیم سے کیوں نہیں اثر لیتا تو اس کو اس آیت سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔کس خوبی سے اللہ نے جواب دیا ہے۔اول قرآن شریف کے نزول کی علت فاعلی بیان کی یعنی اس کے نزول کی ، اترنے کی وجہ اور اس کی عظمت اور بزرگی کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا السم میں خدا ہوں جو سب سے زیادہ جانتا ہوں۔یعنی نازل کنندہ اس کتاب کا میں ہوں جو علیم و حکیم ہوں جس کے علم کے برابر کسی کا علم نہیں۔پھر بعد اس کے علتِ ماڈی قرآن کے بیان میں فرمائی اور اس کی عظمت کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا ذَالِکَ الكِتب وہ کتاب ہے۔یعنی ایسی عظیم الشان اور عالی مرتبت کتاب ہے جس کی علت ماڈی“ اس کے پیدا ہونے کی وجہ علم الہی ہے۔یعنی جس کی نسبت ثابت ہے کہ اس کا منبع اور چشمہ ذات قدیم حضرت حکیم مطلق ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔” اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ”وہ“ کا لفظ اختیار کرنے سے جو بعد اور ڈوری کے لئے آتا ہے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ کتاب اس ذات عالی صفات کے علم سے ظہور پذیر ہے جو اپنی ذات میں بے مثل و مانند ہے۔جس کے علوم کاملہ اور اسرار دقیقہ نظر انسانی کی حد جولان سے بہت بعید اور ڈور ہیں۔یعنی اس کے اندر جو کامل علم ہے، جو کامل تعلیم ہے اس کے اندر اور جو راز کی باتیں پوشیدہ ہیں اور جو گہرائی کی باتیں پوشیدہ ہیں وہ انسان کا ، عام آدمی کا جو فہم و ادراک ہے اس سے بہت دور ہیں۔پھر بعد اس کے علت صوری کا قابل تعریف ہونا ظاہر فرمایا۔“ یعنی ظاہری شکل جو ہے ” اور کہا 66