خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 106
خطبات مسرور جلد ششم 106 خطبه جمعه فرموده 7 مارچ 2008 کے دعوے کرتے ہیں۔لیکن رسول اللہ اللہ کی اطاعت میں گم ہو کر وہ پایا جوصدیوں سے ان کے حصے میں نہ آیا تھا“۔( ملفوظات جلد اول صفحه 409 مطبوعہ ربوہ ) یہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت کیا تھی؟ یہ اس تعلیم پر مکمل طور پر عمل کرنے کی کوشش تھی جو آنحضرت ﷺ پر اتری تھی۔اور پھر ایک دنیا نے دیکھا جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جس شہر میں آزادانہ طور پر پھر نہ سکتے تھے اور پھر ایک وقت آیا کہ جب اس شہر سے نکالے بھی گئے۔اسی اطاعت اور اسی تعلیم پر عمل کرنے کی وجہ سے اس شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ آج بھی ہماری فتوحات اسی تعلیم پر عمل کرنے کی وجہ سے ہوں گی۔انشاء اللہ۔پھر اچھی آواز میں تلاوت کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے آنحضرت یہ فرماتے ہیں۔یہ ایک روایت ہے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کے حسن میں اپنی عمدہ آواز کے ساتھ اضافہ کیا کرو کیونکہ عمدہ آواز قرآن کے حسن میں اضافہ کا موجب ہوتی ہے۔(سنن ابو داؤد کتاب الصلوۃ باب تفریح ابواب الوتر باب استحباب الترتيل في القراءة حديث نمبر 1468) اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف کو بھی خوش الحانی سے پڑھنا چاہئے۔بلکہ اس قدر تاکید ہے کہ جو شخص قرآن شریف کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔اور خود اس میں ایک اثر ہے۔عمدہ تقریر خوش الحانی سے کی جائے تو اس کا بھی اثر ہوتا ہے۔وہی تقریر ژولیدہ زبانی سے کی جائے یعنی کہ واضح طور پر نہ ہو تو اس میں کوئی اثر نہیں ہوتا۔جس شے میں خدا تعالیٰ نے تاثیر رکھی ہے اس کو اسلام کی طرف کھینچنے کا آلہ بنایا جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔حضرت داؤد کی زبور گیتوں میں تھی اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ جب حضرت داؤد" خدا تعالیٰ کی مناجات کرتے تھے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ روتے تھے اور پرندے بھی تسبیح کرتے تھے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 524 مطبوعہ ربوہ ) تو اس خوش الحانی کا بھی مقصد ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا رکھا ہے؟ یہ کہ اس سے اسلام کی تبلیغ ہو۔وہ لوگ جو اچھی آواز سے متاثر ہوتے ہیں ان کو متاثر کر کے پھر اس تعلیم کے اصل مغز سے آگاہ کیا جائے۔جس کتاب کا میں نے شروع میں حوالہ دیا ہے، اس میں اکثر عورتوں نے یہی ذکر کیا ہے کہ کیوں انہوں نے اسلام قبول کیا ؟ اس کوسنا اور پھر جب اس کی تعلیم کو دیکھا تو ان کو پسند آئی۔تو یہی بات جو انہوں نے کی ہے اس کی تعلیم ان کو پسند آئی ، یہی قرآن کریم کا دعوی ہے کہ حقیقی تعلیم اور فطرت کے مطابق تعلیم اور ہدایت کے راستے قرآن کریم میں ہی ہیں۔جیسا کہ فرماتا ہے۔اِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا۔( بنی اسرائیل: 10)