خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 74 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 74

خطبات مسرور جلد ششم 8 74 خطبه جمعه فرموده 22 فروری 2008 فرمودہ مورخہ 22 فروری 2008ء بمطابق 22 تبلیغ 1387 ہجری ششی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَأَخْرى۔وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى۔إِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلوةَ۔وَمَنْ تَزَكَّى فَإِنَّمَا يَتَزَكَّى لِنَفْسِهِ۔وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ۔(الفاطر: 19) آج کا خطبہ بھی گزشتہ خطبہ کے تسلسل میں ہی ہے، یعنی نماز کا مضمون۔پہلے خیال تھا کہ دوسرا مضمون شروع کروں گا لیکن پھر غور کرنے سے احساس ہوا کہ آج بھی یہی جاری رکھا جائے۔کچھ اقتباسات پیچھے رہ گئے تھے جو پیش کرنے ضروری ہیں۔نماز کا حکم بھی ایک ایسا حکم ہے جو ایک بنیادی حکم ہے اور ایک ایسی بنیادی چیز ہے جس کے بغیر دین کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔قرآن کریم میں اس کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے بلکہ قرآن مجید کی ابتداء میں سورۃ بقرہ میں ایمان بالغیب کے بعد جود وسرا اہم حکم ہے وہ نماز کے قیام کا ہے۔بلکہ اس سے پہلے سورۃ فاتحہ میں بھی ایساک نَعْبُدُ کہہ کر عبادت کی دعامانگی گئی ہے کہ اے اللہ ! ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔اس لئے ہمیں ہمیشہ توفیق دیتارہ کہ ہم تیری عبادت کرتے رہیں اور اس عہد پر قائم رہیں جو ایک مومن مسلمان کا ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے والے بنیں جو ایک انسان کی پیدائش کا مقصد ہے۔اسی لئے آنحضرت ﷺ نے بھی اس اہم حکم پر بہت زور دیا ہے۔فرمایا ”نماز دین کا ستون ہے“۔عمارتوں کی مضبوطی ستونوں سے ہی قائم ہوتی ہے۔پس جن نمازوں کے ستونوں پر ہمارا دین قائم ہے اس کی حفاظت انتہائی اہم ہے ورنہ دین میں دراڑیں پڑنے کا خدشہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نمازوں کے بارے میں ارشادات بھی قرآن کریم اور احادیث کی وضاحت کرتے ہوئے اس وضاحت سے ہمارے سامنے آئے ہیں کہ جن کا پڑھنا اور سننا ہر احمدی کے لئے انتہائی اہم اور ضروری ہے۔ان کو پڑھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس انسان کامل کے شاگرد کامل کے علم کلام کی حسن و خوبی کیا ہے لہذا ان سب باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے نیز گزشتہ خطبہ کے بعد مجھے کسی نے اس اہم مضمون پر ابھی اور توجہ دلانے کی طرف بھی لکھا۔پھر UK کے سیکرٹری تربیت کی رپورٹ، اسی طرح امریکہ کی صدر لجنہ نے بھی جور پورٹ