خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 58

58 خطبه جمعه فرموده 8 فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم طرف سے بھی غیروں کی طرف سے بھی ، مسلمانوں کی طرف سے بھی اور غیر مسلموں کی طرف سے بھی زیادہ بھڑ کنی تھی۔۔غیر مسلموں کی طرف سے اس لئے کہ مسیح موعود کے زمانے میں اسلام کی ترقی دیکھ کر وہ برداشت نہیں کر سکتے کہ اسلام کا غلبہ دنیا پر ہو اور بعض مسلمان لیڈروں اور ملاؤں کی طرف سے اس لئے کہ ان کی بادشاہتیں اور ان کے منبر کہیں ان سے چھن نہ جائیں اور اس کو بچانے کے لئے انہیں غیر مسلموں کے سامنے بھی جھکنا پڑا تو انہوں نے اسے عار نہیں سمجھا۔پھر جو مسلمان ہیں، اللہ تعالٰی ان لوگوں کو عقل دے اور رحم کرے کہ یہ لوگ خود ایسی حرکتیں کر کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے والے بن رہے ہیں۔صرف اس لئے کہ احمدیت کی مخالفت کرنی ہے، یہ اگر اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے لڑنے کی کوشش کریں گے تو خود فنا ہو جائیں گے۔پس ہمدردی کے جذبے کے تحت کہ یہ کلمہ گو ہیں، چاہے ظاہری طور پر ہی سہی، ہمیں ان کے لئے دعا کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ کے ساتھ جو یہ اعلان کیا۔وہاں یہ اعلان بھی فرمایا کہ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيمُ ( الجمعة : 4) - یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے کہ اسے بھیجنے والا میں ہوں جو عزیز اور حکیم ہے۔اللہ غالب ہے، عزیز ہے، کوئی نہیں جو اس عزیز خدا کے کام کو روک سکے۔اور وہ حکیم ہے اس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسلامی تعلیم کی حکمت کے موتی اس مسیح و مہدی سے منسلک ہو کر ہی اب حاصل کئے جاسکتے ہیں۔پس جہاں ہم نے یہ پیغام دنیا کو دینا ہے، حاسدوں کے حسد اور ابتلاؤں سے سرخرو ہو کر نکلنے کے لئے دعاؤں کی بھی بہت ضرورت ہے۔ایک تو جن ملکوں میں احمدیوں پر سختیاں ہو رہی ہیں وہ اپنے ثبات قدم کے لئے دعائیں کریں اور اللہ تعالیٰ کے در کو اس طرح پکڑھیں اور اس کے آگے اس طرح جھکیں کہ جلد سے جلد تر وہ فتوحات اور قبولیت دعا کے نظارے دیکھنے والے ہوں۔اور پھر دنیا میں وہ احمدی جن پر براہ راست سختیاں نہیں اور بظاہر امن میں ہیں وہ اپنے بھائیوں کے لئے دعائیں کریں۔کیونکہ مومن کی یہی شان بتائی گئی ہے کہ یہ ایک جسم کی طرح ہے۔جب ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔پس ہمارے کسی بھی احمدی بھائی کی تکلیف ہماری تکلیف ہے، بلکہ احمدی کا دل تو اتنا حساس ہے اور ہونا چاہئے کہ کسی بھی انسان کی تکلیف پر وہ تکلیف محسوس کرے۔پس جب ہم ایک درد کے ساتھ ان ابتلاؤں سے سرخرو ہو کر نکلنے اور ان کے جلد ختم ہونے کے لئے دعا کریں گے تو یقینا وہ مجیب الدعوات خدا ہماری دعاؤں کو سنتے ہوئے ہمارے بھائیوں کی تنگیوں اور پریشانیوں کو دور فرمائے گا۔مخالفین سمجھتے ہیں کہ یہ روکیں، یہ کلیفیں جماعت احمد یہ کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔اگر کسی انسان کا یہ کام ہوتا تو گزشتہ 100 سال سے زائد عرصہ سے جو مخالفتوں کی آندھیاں چل رہی ہیں، وہ کب کی جماعت کو ختم کر چکی ہوتیں۔کون احمدی نہیں جانتا کہ پاکستان میں جماعت احمدیہ کی مخالفت نے ہی ہمیں بڑھنے، پھلنے اور پھولنے کے مواقع پہلے سے زیادہ رفتار کے ساتھ مہیا فرمائے ہیں۔پس ہمیں اس بات کی نہ بھی پرواہ رہی ہے اور نہ ہے کہ یہ مخالفتیں جماعت کی ترقی میں کبھی سدراہ بن سکتی ہیں۔آج کل پھر پاکستان میں لگتا ہے احمدیوں کے خلاف اس باسی کڑھی میں ابال آیا ہوا ہے۔ویسے تو ہلکی ہلکی مخالفتیں ادھر سے ادھر چلتی رہی ہیں لیکن اب کچھ تھوڑی تیزی پیدا ہوتی نظر آ رہی ہے۔جہاں بھی موقع ملتا ہے احمدیوں پر جھوٹے مقدمے بنائے جاتے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک 13 سال کے بچے پر پولیس نے مقدمہ درج کر دیا که مولوی کہتے ہیں کہ اس لڑکے نے فلاں مولوی کو مارا ہے۔جبکہ مار کھانے والے کے رشتہ دار اس سے انکاری ہیں۔صرف مقدمہ بنانا ہے اور شرارت ہے۔اور مارا بھی اس طرح ہے کہ مار مار کر اس کا برا حال کر دیا کہ اسے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔یعنی ایک ہٹا کٹا جوان آدمی ، اس کو 13 سال کا ایک بچہ اس طرح مار رہا ہے کہ وہ مارکھا تا چلا گیا اور