خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 41
خطبات مسرور جلد ششم 41 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 2008 وعدہ آج بھی ہم پورا ہوتا ہوا دیکھیں گے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح و مہدی کو بھیج کر آنحضرت ﷺ کے مشن کی تکمیل کا اعلان فرمایا ہے۔پس اگر کہیں عارضی روکیں جماعت کی راہ میں حائل ہوتی ہیں تو یہ کسی بھی قسم کی مایوسی پیدا کرنے والی نہیں ہونی چاہئیں۔اسلام کی ابتدائی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب تک اس مزگی کی لائی ہوئی تعلیم سے چھٹے رہیں گے یا وہ لوگ چمٹے رہے، سابقہ تاریخ یہی کہتی ہے کہ جب تک وہ لوگ چھٹے رہے، حقیقی طور پر اس پر عمل پیرار ہے تو لوگوں کے دل جیتے ہوئے انہیں اسلام کی آغوش میں لاتے چلے گئے۔ان کے تزکیہ کے سامان ہوتے چلے گئے۔اور آج مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی ہم نے یہی نظارے دیکھے ہیں۔ہمارا کام اپنے تزکیہ کے لئے اس تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرنا ہے اور پھر چاہے دنیا جتنا زور لگا لے اس الہی وعدے کو نہیں ٹال سکتی کہ اس دین نے غالب آنا ہے۔پاکستان میں احمدیوں کے خلاف قانون پاس ہونے سے کیا جماعت کی ترقی رک گئی ؟ ہر احمدی جانتا ہے کہ رکنے کا تو سوال ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت اس تیزی کے ساتھ چھلانگیں مارتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔پس جن جن ملکوں میں جماعت کی مخالفت آج ہو رہی ہے انہیں بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ ، ایک راستہ بند ہوگا تو ہزاروں راستے اللہ تعالیٰ کھول دے گا۔انڈو نیشیا میں آجکل ملانوں کے دباؤ کی وجہ سے حکومت جماعت پر بعض سختیاں کر رہی ہے جن میں یہ بھی ہے کہ بعض ایسی باتیں منوانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہمارا نکتہ نظر ہی نہیں ہیں۔تو میں انڈو نیشین احمد یوں سے بھی کہتا ہوں کہ اگر حکومت اپنی بزدلی کے نتیجے میں یا اس وجہ سے جماعت پر پابندی لگاتی ہے، ملانوں کے ڈر سے جماعت پر پابندی لگاتی ہے تو لگا لے۔اچھا ہے پاک لوگوں کی جماعت مزید کھر کر دنیا کے سامنے آ جائے گی۔یہ تسلی رکھیں کہ اس سے انشاء اللہ جماعت کا کوئی نقصان نہیں ہو گا۔آج تک کی جماعت کی جو تاریخ ہے اس بات کی گواہ ہے کہ ہر راستے کی روک نے اونچا اڑانے کے لئے ایندھن کا کام کیا ہے۔پس ہم علی وجہ البصیرت اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام وہی مسیح و مہدی ہیں جن کے آنے کی آنحضرت ﷺ نے خبر دی تھی تا کہ اس اندھیرے زمانے میں دلوں کو پاک کر کے روشنی بخشیں اور خدا سے ملا ئیں۔پس آپ کا مقام مسیح و مہدی ہونے کی حیثیت سے، آنحضرت میہ کی غلامی میں آنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غیر شرعی نبی ہونے کا دیا ہے اور اس لحاظ سے آپ نبی ہیں اور آج دلوں کی پاکیزگی آنحضرت ﷺ کے اس غلام صادق سے وابستہ ہو کر ہی ہوتی ہے اور انشاء اللہ تعالی یہی ایک جماعت ہے جس نے نفوس میں بھی اور اموال میں بھی بڑھنا ہے اور بڑھ رہی ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس بڑھنے کو نہیں روک سکتی۔کیونکہ یہ مزگی حقیقی کے عاشق صادق کی جماعت ہے۔پس جہاں جہاں بھی مخالفتیں ہو رہی ہیں انہیں میں کہتا ہوں اپنے حوصلے بلند رکھیں اور کسی بھی مخالفت سے گھبرانے کی بجائے اپنے دلوں کو پاک کرنے کے سامان پیدا کرتے چلے جائیں۔مزید بڑھ کر اس مزگی کی تعلیم سے فیضیاب ہونے کی کوشش کرتے چلے جائیں۔جتنے دل پاک ہوتے جائیں گے روح القدس کی تائید شامل ہوتی جائے گی ، انشاء اللہ اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ہماری تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔پس ایک مومن کا فرض ہے کہ یرنی کے معنوں پر غور کرتے ہوئے عمل کرنے کی کوشش کرے جس سے ہم انشاء اللہ تعالیٰ دینی اور دنیاوی دونوں طور پر ترقی کرتے چلے جائیں گے۔اس بارے میں ہمیں قرآن کریم نے کیا احکامات دیئے ہیں اور آنحضرت ﷺ نے کیا نصائح فرمائی ہیں ان کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اور یہ بھی ہو گا جب ہم قرآن کریم پر غور کرنے والے اور روزانہ تلاوت کرنے والے ہوں گے۔دلوں کی پاکیزگی کے چند ایک احکامات میں پیش کرتا ہوں۔