خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 524 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 524

خطبات مسرور جلد ششم 524 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 دسمبر 2008 لیکن اگر غور کریں تو اس شہد کی مکھی کے ذریعہ روحانی شفاؤں کے راستوں کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب شہد کی مکھی کا ذکر فرمایا تو وَ اَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ (النحل: 69) اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی۔جس کے نتیجہ میں پھر آگے ذکر ہے کہ اس نے اونچی جگہ چھتے بنائے اور پھولوں کا رس چوس کر مختلف دوروں سے گزر کر شہد بنایا۔جس کے بارہ میں پھر اللہ تعالیٰ نے فرما یافيْهِ شِفَاء لِلنَّاسِ (النحل: 70) کہ اس میں لوگوں کے لئے شفاء ہے اور اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ انَّ فِي ذَلِكَ لَا يَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُوْنَ (النحل: 70 ) یقینا اس میں غور فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت بڑا نشان ہے۔کس غور کی طرف یہاں اشارہ ہے؟ یہ اس بات کے غور کی طرف اشارہ ہے کہ ایک معمولی مکھی کو اللہ تعالیٰ نے وحی کر کے وہ راستہ دکھا دیا جس سے ایسی چیز پیدا ہوئی جولوگوں کے لئے شفاء بن گئی۔کیا مسلمان اور کیا غیر مسلم ، سب اس چیز کو تسلیم کرتے ہیں کہ شہد میں شفاء ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر کام کے لئے وحی الہی کی ضرورت ہے۔اس لئے اے لوگو! تم میں سے بعض جو خدا تعالیٰ کی وحی کے انکاری بن جاتے ہیں اس بات پر غور کرو کہ شہد بنانے کا سارا عمل ، پھولوں کا رس چوسنے سے لے کر شہد بننے تک، اللہ تعالیٰ کی وحی کی وجہ سے مکمل ہوا ہے۔بلکہ معمولی جانور بھی اپنے کاموں کے لئے وحی کے محتاج ہیں ، جن کو اپنے کاموں سے متعلق راہنمائی ملتی ہے۔اور جانوروں، کیڑوں مکوڑوں میں اس کی اعلیٰ ترین مثال شہد کی مکھی کی وحی ہے۔تو انسان کس طرح کہہ سکتا ہے؟ کہ وہ خود ہی ہدایت پا جائے گا یا اس کو کسی ہدایت کی ضرورت نہیں، سب کام خود بخود ہورہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس بارے میں فرمایا کہ: ایک دنیا دار انسان سمجھتا ہے کہ اس کی کوشش سے وہ اپنے مقصد حاصل کر لیتا ہے، اپنی کوشش سے اپنا مقصد حاصل کر لیتا ہے۔جبکہ اس کی کوشش بھی دعا ہی کی ایک قسم ہے اور اس کے نتیجہ میں جو تد بیر اس کے ذہن میں آتی ہے وہ بھی وحی کی ایک قسم ہے۔پس انسان کو شہد کی مکھی کے عمل سے یہ سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے بغیر کسی چیز کا اعلیٰ حصول ممکن ہی نہیں۔اس لئے انسان جو اشرف المخلوقات ہے، جس کے لئے دو زندگیاں مقرر ہیں، ایک اس جہان کی اور ایک اگلے جہان کی دائمی زندگی۔اور اگلے جہان کی زندگی کا انحصار اس جہان کے اعمال پر ہے۔وہ اعمال کون سے ہیں، وہ جو اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں۔تو جب اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اعمال پر انحصار ہے تو وہ بغیر وحی کے کس طرح اس دنیا میں کامیاب زندگی گزار کر اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا۔ہے۔پس انسان کی کامیاب زندگی کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے گزاری جائے وحی الہی ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے قانون بنایا ہوا ہے کہ اپنے انبیاء کے ذریعہ اپنے نیک لوگوں کے ذریعہ روحانیت کے حصول کے راستوں کی راہنمائی کرواتا ہے۔اور آنحضرت کے ذریعہ جو کہ انسان کامل تھے، وحی بھی کامل کی اور