خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 514 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 514

خطبات مسرور جلد ششم 514 خطبہ جمعہ فرمودہ 19 دسمبر 2008 کے باوجود بعض دفعہ طبائع میں یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ فلاں ڈاکٹر کا علاج ہی میری کامیابی ہے اور یہ بات بھی ایک طرح سے مخفی شرک میں شمار ہو جاتی ہے۔حضرت خلیفہ مسیح الاول جو بہت ماہر طبیب تھے۔ان کے بہت سارے واقعات ہیں۔ان میں سے ایک واقعہ میں اس ضمن میں بیان کرتا ہوں۔آپ لکھتے ہیں کہ میری ایک بہن تھی۔ان کا ایک لڑکا تھا۔وہ پچپش کے مرض میں مبتلا ہوا اور مر گیا۔اس کے چند روز بعد میں گیا۔میرے ہاتھ سے انہوں نے کسی پیچش کے مریض کو اچھا ہوتے ہوئے دیکھا۔مجھ سے فرمانے لگیں کہ بھائی اگر تم آجاتے تو میر الڑ کا بچ ہی جاتا۔میں نے ان سے کہا کہ تمہارے ایک لڑکا ہوگا اور میرے سامنے پیچش کے مرض میں مبتلا ہو کر مرے گا۔چنانچہ وہ حاملہ ہوئیں اور ایک خوبصورت لڑکا پیدا ہوا۔پھر جب وہ پیچش کے مرض میں مبتلا ہوا، ان کو میری بات یاد آئی۔مجھ سے کہنے لگیں کہ اچھا دعا ہی کرو۔میں نے کہا خدا تعالیٰ آپ کو اس کے عوض میں ایک اور لڑکا دے گا لیکن اس کو تو اب جانے ہی دو۔چنانچہ وہ لڑ کا فوت ہو گیا اور اس کے بعد ایک اور لڑکا پیدا ہوا جو زندہ رہا اور اب تک زندہ اور برسر روزگار ہے۔یہ الہی غیرت تھی۔( مرقاة الیقین صفحه 202 مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ ) اسی طرح حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کا واقعہ ہے کہتے ہیں کہ 1907ء میں لاہور میوہسپتال میں ہاؤس سرجن تھا کہ میری بڑی سالی ہمارے ہاں اپنی بہن سے ملنے آئیں۔شاید مہینہ بھر یا کم و بیش وہ ہمارے ہاں ٹھہریں۔وہ نہ صرف میری سالی تھیں بلکہ میری پھوپھی کی بیٹی تھیں۔وہ آئی اس طرح تھیں کہ ان کے ہاں ایک لڑکی ہوئی تھی جو کچھ مہینے زندہ رہ کر مرگئی۔اس کے مرنے کے صدمہ کو بھلانے کے لئے وہ اپنی چھوٹی بہن کے ہاں آئی تھیں۔یہاں آکر وہ کہتے ہیں کہ اس بات کا بار بار ذکر کیا کرتی تھیں کہ اگر میرے بہنوئی ڈاکٹر صاحب ( یعنی ڈاکٹر میر اسماعیل صاحب ) میرے پاس ہوتے تو میری لڑکی نہ مرتی۔جب انہوں نے کئی دفعہ اس بات کا ذکر کیا تو مجھے خدا تعالیٰ کے متعلق بڑی غیرت آئی۔میں نے کہا کہ اب ان کے ہاں ضرور ایک لڑکا پیدا ہو گا اور وہ میرے زیر علاج رہ کر میرے ہی ہاتھوں مرے گا۔بات گئی آئی ہو گئی۔کہتے ہیں پھر اس کے بعد ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا اور وہ چلہ کر کے اپنی بہن کو ملنے کے لئے اس بچے کے ساتھ آئیں اور رستے میں تھر مس میں گرم دودھ ڈالنے کی وجہ سے دودھ پھٹ گیا اور وہ وہی پلاتی رہیں جس کی وجہ سے بیٹے کو سخت تکلیف ہوگئی اور ہر قسم کا علاج کیا۔اس کا پیٹ خراب ہو گیا۔خود بھی ڈاکٹر صاحب نے علاج کیا اور دوسروں سے بھی علاج کروایا لیکن کہتے ہیں کہ بچہ اچھا نہ ہوا اور دو ہفتہ بیمار رہ کر فوت ہو گیا۔ان کے ہاں نرینہ اولاد کی کمی تھی۔ماں کو سخت صدمہ تھا۔تو میر صاحب کہتے ہیں مجھے اس وقت وہ بات یاد آئی جو میں نے چھ سال پہلے لاہور میں کہی تھی کہ ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا اور وہ میرے ہاتھوں مرے گا۔تا کہ ان کا شرک ٹوٹے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔( آپ بیتی از حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب صفحہ نمبر 29-30)