خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 513 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 513

513 خطبہ جمعہ فرمودہ 19 دسمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم آج سے چند سال پہلے جیسا کہ میں نے کہا جو بیماری نا قابل علاج سمجھی جاتی تھی آج اس کے علاج کو معمولی سمجھا جاتا ہے۔اس ترقی کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ انسان اب خدا نخواستہ اللہ تعالی کی حکومت میں یا اس کی صفات میں برابری کا حصہ دار بن گیا ہے۔بلکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے انسان کو اتنی عقل دی ہے کہ وہ نئے علاج بھی دریافت کر رہا ہے اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ پھر اپنا فضل کرتے ہوئے انسان کو شفا بھی دے رہا ہے۔شافی اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔انسان تو جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک ہمدردی کرنے والا شخص ہے اور ہر ریسرچ کرنے والے کو جو بیماریوں کے علاج کے لئے ریسرچ کرتا ہے اور ہر ڈاکٹر کو اور طبیب کو صرف دوسرے انسان اور اپنے مریض کا ہمدرد بنتے ہوئے انسان کی بہتری کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور یہی ایک مومن کی شان ہے۔غیر تو اس طرح نہیں سوچتے لیکن ایک احمدی کی سوچ یہی ہونی چاہئے۔پس ہر احمدی ڈاکٹر اور ریسرچ کرنے والے کو اپنے مریضوں کے لئے اس انسانی ہمدردی کے جذبہ سے کام کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ڈاکٹر ز ( ربوہ کے ہسپتالوں میں بھی ، افریقہ میں بھی ) اپنے نسخوں کے اوپر هُوَ الشَّافِی لکھتے ہیں۔اگر ہر ڈاکٹر دنیا میں ہر جگہ اس طرح لکھتا ہو اور ساتھ اس کا ترجمہ بھی لکھ دے تو یہ بھی دوسروں پر ایک نیک اثر ڈالنے والی بات ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو بھی جذب کرنے والی ہوگی اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ میں شفاء بھی بڑھا دے گا۔اکثر پرانے ڈاکٹر ز تو مجھے امید ہے کہ یہ کرتے ہوں گے لیکن بہت سے نوجوان ڈاکٹر ز شاید اس طرف توجہ نہ دیتے ہوں۔تو ان کو بھی میں اس لحاظ سے توجہ دلا رہا ہوں۔ہر احمدی جو معالج ہے ہمیشہ سب سے پہلے یہ ذہن میں رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی عقل اور علم سے میں علاج تو کر رہا ہوں لیکن شافی خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اگر اس کا اذن ہوگا تو میرے علاج میں برکت پڑے گی اور ظاہر ہے جب یہ سوچ ہوگی تو پھر ڈاکٹر کی دعا کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی اور جب دعا کی طرف توجہ پیدا ہوگی اور اس کے نتیجے میں اس کے ہاتھ میں شفاء بھی بڑھے گی تو خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین بھی بڑھے گا اور اس طرح روحانیت میں بھی ترقی ہوگی۔اسی طرح مریض ہیں، ان کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ فلاں ڈاکٹر میر اعلاج کرے گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا یا فلاں ہسپتال سب سے اچھا ہے وہاں جاؤں گا تو ٹھیک ہوں گا۔ٹھیک ہے سہولتوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے لیکن مکمل انحصار ان پر نہیں ہو سکتا۔بلکہ ہمیشہ یہ سوچنا چاہئے کہ شافی خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا اذن ہوگا تو میں شفا پاؤں گا۔اس لئے جس ڈاکٹر سے بھی ایک مریض علاج کروا رہا ہے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفار کھ دے اور اسے صحیح راستہ سمجھائے۔ہر احمدی کو یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے شفا دے تو اس کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے شفا دے۔اللہ کے فضل سے جس طرح مجھے اپنے یا اپنے عزیزوں کی بیماری پر دعا کے لئے لوگوں کے خطوط آتے ہیں ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ احمدی کو علاج کے لئے خدا تعالیٰ کی ذات پر بڑا یقین ہوتا ہے۔لیکن اس