خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 492
خطبات مسرور جلد ششم 492 خطبہ جمعہ فرموده 28 نومبر 2008 ہمیشہ بچا کر رکھیں۔کیونکہ یہی باتیں پھر آہستہ آہستہ شرک کی طرف لے جاتی ہیں۔یہاں تعلیم کا معیار ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس صو بہ میں احمدی بھی باقی آبادی کی طرح 100 فیصد تعلیم یافتہ ہیں۔تو اس تعلیم کو اپنے دین کی حفاظت کے لئے استعمال کریں۔دینی تعلیم کا حصول بھی آپ لوگوں کا ایک اہم مقصد ہونا چاہئے تا کہ اپنے ایمان کی حفاظت کے ساتھ اپنے بچوں میں بھی دین سے تعلق پیدا کر کے ان کی حفاظت کرنے والے ہوں تا کہ آئندہ نسلوں کا ایمان بھی ہمیشہ ترقی کرتے چلے جانے والا ہو۔اور پھر اس دینی علم کو استعمال کر کے دعوت الی اللہ میں بھی اہم کردار ادا کرنے والے بنیں۔یہ سرزمین ایسی ہے جہاں ہندوؤں کے علاوہ یہودی بھی آکر آباد ہوئے پھر ان کی تلاش میں حضرت عیسی کے خاص حواری حضرت تھومہ (Thomas) یہاں آئے ، عیسائیت یہاں پھیلی۔پھر جیسا کہ یہاں مشہور ہے حضرت مالک بن دینار کے ذریعہ اور عرب تاجروں کے ذریعہ اسلام کی ابتداء یہاں اسلام کے ابتدائی زمانہ میں ہو گئی۔اب آپ کو اللہ تعالیٰ نے مسیح محمدی کے ماننے کی توفیق دی ہے تو اس پیغام کو ایک خاص کوشش اور جدو جہد کے ساتھ آگے پہنچائیں اور آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے اس حصہ کی آبادی کو بھی لانے کی کوشش کریں کہ اب دنیا کی اصل نجات آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے آنے میں ہی ہے۔اور اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اسی لئے بھیجا ہے۔پس اب ہم پر یہ ذمہ داری ہے کہ اس پیغام کو جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ دنیا میں پھیلانا مقدر فرمایا ہے تو ایک کوشش کے ساتھ پھیلانے کی طرف توجہ کریں۔دنیا کی توجہ اب پہلے سے بڑھ کر احمدیت کی طرف ہو رہی ہے۔آپ نے اپنے علاقہ میں بھی میڈیا کے ذریعہ محسوس کیا ہوگا اور مخالفت میں بھی اور سننے کے لئے بھی اب دنیا کی ایک خاص توجہ احمدیت کی طرف ہو گئی ہے۔پس اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے ہمیں پہلے سے بڑھ کر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہمیشہ اس بات کو یاد رکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ مجھے دعاؤں کا ہتھیار دیا گیا ہے۔اس لئے دعاؤں کی طرف ہمیں بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یہی ہیں جو انشاء اللہ تعالیٰ ہماری کامیابی کا باعث بنیں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین الفضل انٹرنیشنل جلد 15 شمارہ نمبر 51 مورخہ 19 دسمبر تا 25 دسمبر 2008 صفحہ 5 تا صفحه 8)