خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 491 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 491

خطبات مسرور جلد ششم 491 خطبه جمعه فرمودہ 28 نومبر 2008 جائیں کہ ہم تو یہ معیار نہ حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہم نے کیا ہے اس لئے ہم جماعت سے باہر ہو گئے۔بلکہ یہ وہ اعلیٰ معیار ہیں جن کے حصول کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔آگے بڑھنے والی جماعتوں کے لئے ہمیشہ بڑے ٹارگٹ مقرر ہوتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل اور برکتیں پہلے سے بڑھ کر نازل ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَرَحْــــــــــى وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ ءٍ (الاعراف: 157) کہ میری رحمت ہر ایک چیز پر حاوی ہے۔پس ہم جو حاصل کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مل رہا ہے اور نیکیوں میں آگے بڑھتے چلے جانے کا ہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔پس یہ نہ سمجھیں کہ جو حاصل نہیں کر سکتے یا نہیں کیا تو مایوس ہو گئے۔بلکہ بڑھتے چلے جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے آگے بڑھاتا چلا جائے گا۔اور پھر من حیث الجماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان انعاموں اور فضلوں کے ہم وارث بن رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے لئے مقدر فرمائے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں ایسے لوگ بھی بہت ہیں جو عبادتوں کے معیار حاصل کرنے والے ہیں۔راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر نفل پڑھنے والے ہیں۔جماعت کے لئے دعائیں کرنے والے ہیں۔تقویٰ پر قدم مارنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کی وجہ سے جماعت پر پھر مجموعی لحاظ سے فضل فرماتا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت کے افراد کی اکثریت کو اس معیار پر دیکھنا چاہتے ہیں جو آپ نے بیان فرمایا ہے تا کہ جماعت کے ہر فرد کا اللہ تعالیٰ سے ذاتی تعلق پیدا ہو جائے۔ہر فرد جماعت وہ فیض پانے والا بنے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے پاتے ہیں۔جتنا زیادہ ہر فرد جماعت کے تقویٰ کا معیار بڑھے گا اتنی جلدی ہم احمدیت کے غلبہ کے نظارے دیکھنے والے ہوں گے۔جیسا کہ میں نے کہا اپنے ماحول میں ان نیک اعمال کی وجہ سے جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے ہم دوسروں کو بھی اپنی طرف کھینچنے والے ہوں گے۔ہماری ان عبادتوں کی وجہ سے ہماری دعوت الی اللہ کی کوشش بھی بار آور ہوگی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سوں کو میں نے ملاقات کے دوران اخلاص و وفا سے پُر پایا ہے۔اور ان کو دعاؤں کی قبولیت پر یقین سے پُر پایا ہے۔اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان اور اس کی رضا کی کوشش ان کی باتوں سے عیاں تھی۔بہت سی عورتوں اور مردوں نے اپنے اور اپنی اولاد کے دین میں ترقی کرنے کی باتیں کی ہیں ان کے لئے دعا کے لئے کہتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ خلافت اور جماعت سے بھی ان لوگوں کا پنتی تعلق ہے۔پس اس تعلق اور اس جذبہ کو نہ صرف کبھی آپ نے مرنے نہیں دینا بلکہ اس میں ہر روز اضافہ کی کوشش کرنی ہے۔اور اس کے لئے جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ہمیشہ یادرکھیں کہ خدائے واحد و یگانہ کی عبادت اور نیک اعمال ایک مومن کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔اپنے آپ کو ہر مخفی شرک سے بھی بچائیں۔یہاں آپ کے آپس میں مختلف مذاہب کے ساتھ تعلقات ہیں اور اُن کی وجہ سے، آپس میں ملنے جلنے کی وجہ سے ، بعض بدعات اور غلط رسومات راہ پا جاتی ہیں اپنے آپ کو ان سے