خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 482 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 482

482 خطبه جمعه فرموده 21 نومبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم مسلمانوں میں سے اسے کا فرقرار دیں گے اور قتل کے درپے ہوں گے اور اس کی سخت توہین و تحقیر کریں گے اور نیز جانتا تھا کہ اس زمانہ میں تثلیث کا مذہب ترقی پر ہو گا اور بہت سے بد قسمت انسان عیسائی ہو جائیں گے اس لئے اس نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی اور اس دعا میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا جو لفظ ہے وہ بلند آواز سے کہہ رہا ہے کہ وہ لوگ جو اسلامی مسیح کی مخالفت کریں گے وہ بھی خدا تعالیٰ کی نظر میں مَغضُوبِ عَلَيْهِمْ ہوں گے جیسا کہ اسرائیلی مسیح کے مخالف مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ تھے۔نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 419) پس ہم احمدی اُن خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے مسیح موعود کومان کر مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے بچنے کی دُعا قبول ہوتے دیکھی اور الضالین سے بچنے کی دعا بھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے حق میں قبول فرمائی کہ ہم خدائے واحد کی عبادت کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں اس پر قائم رکھے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ حکم کہ دعا کرو کبھی دل ٹیڑھے نہ ہوں اور کبھی مغضُوبِ عَلَيْهِمْ اور ضالین میں شامل نہ ہوں ، یہ دعا پڑھنے کا مستقل حکم ہے۔اس لئے ہر احمدی کو اسے یاد رکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ دوسرے مسلمانوں کو بھی اس دعا کو سمجھنے کی توفیق دے تا کہ امت مسلمہ آنحضرت اللہ کے عاشق صادق کی جماعت میں شامل ہو کر امت واحدہ کا حقیقی نظارہ پیش کرنے والی بن جائے اور ہر مسلمان کہلانے والا مسیح محمدی کی مخالفت چھوڑ کر آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی صداقت کا مصدق بن جائے اور فروعی مسائل کے پیچھے چلنے کی بجائے اس دعا کے بنیادی پیغام کو سمجھنے والا بن جائے حدیثوں سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ کی دُعا بہت پڑھا کرتے تھے۔پھر ایک حدیث میں یہ بھی روایت ہے کہ جو حضرت شهر بن حوشب سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے اُم سلمہ سے پوچھا کہ اے اُم المومنین! آنحضرت مہ جب آپ کے یہاں ہوتے تھے تو کون سی دعا کرتے تھے۔اس پر ام سلمہ نے بتایا کہ آنحضرت ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے کہ يَا مُقَلَبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلَى دِيْنِكِ کہ اے دلوں کو پھیر نے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے اس دعا پر مداومت کی وجہ پوچھی کہ آپ باقاعدگی سے اس کو کیوں پڑھتے ہیں۔تو آپ نے فرمایا کہ اے ام سلمہ ! انسان کا دل خدا تعالیٰ کی دوانگلیوں کے درمیان ہے جس شخص کو ثابت قدم رکھنا چاہے اس کو ثابت قدم رکھے اور جس کو ثابت قدم نہ رکھنا چاہے اس کے دل کو ٹیڑھا کر دے۔(سنن ترندی کتاب الدعوات باب 94/89 حدیث نمبر 3522) پس دیکھیں کس قدر خوف کا مقام ہے اور ہمیں اپنے دل کو ٹیڑھا ہونے سے بچانے کے لئے کس قدر دعا کی