خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 475 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 475

خطبات مسرور جلد ششم 475 خطبہ جمعہ فرموده 14 نومبر 2008 اور اچھی تربیت اس وقت ہوتی ہے جب انسان کے اپنے عمل بھی ایسے ہوں جو اولاد کے لئے نمونہ بن سکیں۔عبادتوں کے معیار بھی اچھے ہوں دوسرے اعمال بھی اچھے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرماوے اور یہ تب ہی میسر آ سکتی ہے کہ وہ (یعنی انسان) فسق و فجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں بلکہ عباد الرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہر شے پر مقدم کرنے والے ہوں“۔فرمایا اور کھول کر کہہ دیا وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا۔اولا دا گر نیک اور متقی ہو تو یہ ان کا امام بھی ہوگا۔اس سے گویا متقی ہونے کی بھی دعا ہے۔(الحکم جلد 5 نمبر 35 مورخہ 24 ستمبر 1901 ، صفحہ 12 کالم 1) پس یہ ذمہ داری پہلے مردوں کی ہے کہ اپنے آپ کو ان راستوں پر چلانے کی کوشش کریں جو اسے عباد الرحمن بنانے والے ہوں۔عورتیں بھی اپنے گھر کی نگران کی حیثیت سے اس بات کی ذمہ دار ہیں کہ تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنے اور اپنے خاوندوں کے بچوں کی تربیت کریں تا کہ وہ معاشرے کا ایک بہترین اور مفید وجود بن سکیں۔لیکن عورتوں کی تربیت کے لئے بھی پہلے مردوں کو قدم اٹھانے ہوں گے۔جب دونوں نیکیوں پر قدم مارنے والے ہوں گے۔تو پھر اولا د بھی نیکیوں پر چلنے کی کوشش کرے گی۔دونوں کی دعائیں بھی اولاد کی تربیت میں مددگار بن رہی ہوں گی۔پہلے جو میں نے حدیث بیان کی تھی کہ اگر مرد پہلے جاگے تو عورت کو جگائے اور اگر عورت پہلے جاگے تو مر دکو جگائے۔یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ دونوں میاں بیوی آپس میں بڑے پیار اور محبت کے تعلق والے ہوں، انڈرسٹینڈنگ (Understanding) ہو، ایک دوسرے کو سمجھتے ہوں کہ ہم نے اپنی رات کی عبادت اور نمازوں کی حفاظت کرنی ہے اس لئے صبح اٹھنے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے۔اگر آپس میں یہ انڈرسٹینڈنگ نہیں تو مرد جب پڑ ا سور ہا ہوگا ( ایسی شکائیتیں بعض دفعہ آتی ہیں ) اور عورت جب اسے نماز کے لئے جگاتی ہے تو بیچاری کی شامت آ جاتی ہے اور بعید نہیں کہ یہ بھی ہو جائے کہ سخت الفاظ سننے کے علاوہ بیچاری عورت کو اس سے مار بھی کھانی پڑ جائے۔اور یہ میں صرف مثال نہیں دے رہا، یہ بعض گھروں میں عملی صورت میں ہوتا ہے۔آہستہ آہستہ پھر عورتیں بھی یا تو خاموش ہو جاتی ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرنی کوشش کرتی ہیں۔یا اپنے خاوندوں کی ڈگر پر آ جاتی ہیں۔اور بچے دنیاوی لحاظ سے تو شاید کچھ بہتر ہو جائیں، پڑھ لکھ جائیں لیکن دینی لحاظ سے بالکل بگڑ جاتے ہیں۔بلکہ جب اس طرح گھر کی صورتحال ہو تو بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ دنیاوی لحاظ سے بھی کئی بچے برباد ہو جاتے ہیں۔پس بچوں کو قرة العین بنانے کے لئے ماں باپ کو اپنی اصلاح بھی کرنی ہوگی اور اپنے نمونے بھی قائم کرنے ہوں گے۔