خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 474 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 474

خطبات مسرور جلد ششم 474 خطبه جمعه فرموده 14 نومبر 2008 وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا کہ کر یہ بتا دیا کہ آنکھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب تم بھی اور تمہاری اولاد میں بھی تقویٰ پر چلنے والے ہو گے۔اگر تمہارے اپنے فعل ایسے نہیں جو تقویٰ کا اظہار کرتے ہوں تو اپنے دائرہ میں متقیوں کے امام بھی نہیں بن سکتے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا اس دعا کے ساتھ ہم آپس میں حقوق کی ادا ئیگی کے لئے تقویٰ پر چل رہے ہیں؟ اپنے بچوں کی تربیت کے لئے ان شرائط کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو انہیں تقویٰ پر چلانے والی ہوں۔اگر گھر یلو سطح پر بھی میاں بیوی تقویٰ کی راہوں پر قدم نہیں مار رہے تو اولاد کے حق میں اپنی دعاؤں کی قبولیت کے نشان کس طرح دیکھ سکتے ہیں۔پھر اگر تقویٰ مفقود ہے تو خلافت اور جماعت کی برکات سے کس طرح فیض پا سکتے ہیں۔خلافت کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے اعمال صالحہ کی شرط رکھی ہوئی ہے۔اگر تقویٰ نہیں تو اعمال صالحہ کیسے ہو سکتے ہیں یا اگر اعمال صالحہ نہیں تو تقویٰ نہیں اور تقویٰ نہیں تو نہ ہی ایک دوسرے کے لئے قرۃ العین بن سکتے ہیں، نہ ہی اولا د قرۃ العین بن سکتی ہے۔پس اولاد کو بھی قرۃ العین بنانے کے لئے ، آنکھوں کی ٹھنڈک بنانے کے لئے ، اپنی حالتوں اور اپنی عبادتوں کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے میاں بیوی کی عبادتوں کے بارے میں یہ نصیحت کی ہے ، آپ فرماتے ہیں کہ اللہ رحم کرے اس شخص پر جو رات کو اٹھے، نماز پڑھے، اور اپنی بیوی کو جگائے۔اگر وہ اٹھنے میں پس و پیش کرے تو پانی کے چھینٹے ڈالے تا کہ وہ اُٹھ کھڑی ہو۔اسی طرح اللہ تعالیٰ رحم کرے اس عورت پر جو رات کو اٹھے نماز پڑھے اور اپنے میاں کو جگائے ، اگر وہ اٹھنے میں پس و پیش کرے تو پانی چھڑ کے تا کہ وہ اٹھ کھڑا ہو۔پس یہ فرائض دونوں کے ہیں۔میاں کے بھی اور بیوی کے بھی کہ اپنی عبادتوں کی طرف توجہ دیں تا کہ نسلوں سے بھی قرۃ العین حاصل ہو۔بعض مردوں کی شکایات آتی ہیں، رات کو اٹھنا تو علیحدہ رہا، عورتوں کے جگانے کے باوجود، فجر کی نماز کے علاوہ اور دوسری نمازوں میں بھی توجہ دلانے کے باوجودستی دکھاتے ہیں۔ایسے لوگ کس طرح اور کس منہ سے رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنِ کی دعا کرتے ہیں۔کس طرح وہ اپنی اولاد میں قرۃ العین تلاش کر سکتے ہیں، کس طرح اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھتے ہیں یار کھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی اولاد کے متقی ہونے کی دعا قبول ہو۔ہاں اللہ تعالیٰ فضل کرنا چاہے تو کوئی روک نہیں۔وہ تو مالک ہے لیکن اگر اس کے فضل سے حصہ لینا ہے تو تقویٰ کے یہ نمونے دکھانے کا بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، اپنی حالتوں کے درست کرنے کا بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔۔پس اپنے بچوں سے قرۃ العین بنے کی توقع اور خواہش رکھنے والوں کو آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کہ اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی بہترین تحفہ نہیں جو باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے، یادے سکتا ہے۔(سنن الترمذی باب ما جاء فی ادب الولد حدیث 1952)