خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 473
خطبات مسرور جلد ششم 473 خطبه جمعه فرموده 14 نومبر 2008 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ( سورة الفرقان آیت : 75 اور وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔یہ جامع دعا ہے کہ آنکھوں کی ٹھنڈک بنا، ایک دوسرے کے لئے بھی اور اپنی اولاد میں سے بھی ایسی اولا د ہمیں عطا کر جو آنکھوں کی ٹھنڈک بنے اور جب اللہ تعالیٰ یہ دعا سکھاتا ہے کہ آنکھوں کی ٹھنڈک مانگو تو اللہ تعالیٰ کے ان لا محدود ود فضلوں کی دعامانگی گئی ہے جس کا علم انسان کو نہیں، خدا تعالیٰ کو ہے جس کا انسان احاطہ ہی نہیں کر سکتا۔اور میاں بیوی اور اولادیں نہ صرف اس دنیا میں ان نیکیوں پر قدم مار کر جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتائی ہیں ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنتے ہیں بلکہ مرنے کے بعد بھی ان نیکیوں کی وجہ سے جو انسان اس دنیا میں کرتا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے انعامات سے نوازتا ہے۔ایک مومن کے مرنے کے بعد اس کی نیک اولادان نیکیوں کو جاری رکھتی ہے جس پر ایک مومن قائم تھا۔اپنے ماں باپ کے لئے نیک اولا د دعائیں کرتی ہے جو اس کے درجات کی بلندی کا باعث بنتے ہیں۔دوسری نیکیاں کرتی ہے جو ان کی درجات کی بلندی کا باعث بنتی ہیں۔پس یہ اولاد کی نیکیاں اور اپنے ماں باپ کے لئے دعا ئیں اگلے جہان میں بھی ایک مومن کو آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءُ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ (السجدہ:18) پس کوئی ذی روح یہ نہیں جانتا کہ اس کے اعمال کے بدلہ میں اس کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔یہ ان لوگوں کے بارہ میں کہا گیا ہے جو تقویٰ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بھی توجہ دیتے ہیں اور اس کی راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں اور دوسری نیکیاں بھی بجالاتے ہیں۔وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر سیدھے راستے پر چلنے اور اپنی اولاد کے سیدھے راستے کی طرف چلنے کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک مانگتے ہیں جس کا علم صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات کو ہے۔اپنی اولادوں اور اپنی بیویوں اور خاوندوں کے لئے اور بیویاں اپنے خاوندوں کے لئے دعامانگتی ہیں کہ یہ سب تقویٰ پہ قائم رہیں اور اللہ تعالیٰ ان سب کے لئے اس دنیا میں بھی انعامات عطا فرمائے جو اس کی رضا کے حامل بنائے اور اگلے جہان میں بھی اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں۔پس یہ دعا ہے جواللہ تعالیٰ کے وہ بندے جو عباد الرحمن ہیں ، نیکیاں بجالاتے ہوئے ما نگتے ہیں اور اپنے پیچھے بھی ایسی نسل چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں جو تقویٰ پر قدم مارنے والی ہو۔یہ دعا اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھا کر ہمیں ہر وقت اس اہم کام کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس کی رضا حاصل کرنے کا نہ صرف ہماری ذات کے لئے ذریعہ بنے بلکہ آئندہ نسلیں بھی اس راستے پر چلنے والی ہوں جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بنیں۔