خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 468 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 468

468 خطبه جمعه فرموده 7 نومبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم بداثرات سے محفوظ رکھیں گی۔کیونکہ مومن کی نظر اپنی آخری منزل کی طرف ہوتی ہے اور ہونی چاہئے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہ دنیاوی تجارتیں اور روپیہ پیسہ کام آئے گا۔نہ تمہاری دوستیاں کام آئیں گی۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کی گئی عبادتیں اور مالی قربانیاں کام آئیں گی۔اللہ تعالیٰ کا جماعت پر بڑا احسان ہے کہ احمدیوں نے اس پیغام کو سمجھا ہے۔مالی قربانیوں کے بوجھ بعض دفعہ اتنے زیادہ ہو جاتے ہیں کہ احساس ہوتا ہے کہ بہت بڑھ گئے ہیں۔لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں کی ایک بہت بڑی تعداد جن کو قربانی کی عادت پڑ چکی ہے وہ قربانی کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ مسجد بنائی تو بعض نے اس میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ایک شخص کو میں جانتا ہوں جو عارضی طور پر یہاں آیا ہوا تھا، اس کے پاس جو کچھ بھی تھا اس نے اس مسجد کی تعمیر کے لئے دے دیا اور مجھے اس سے کہنا پڑا کہ نفس کا بھی حق ہے، اس کو بھی ادا کرنا چاہئے۔پھر تحریک جدید کا سال جن کو پتہ ہے کہ 31 اکتوبر کوختم ہوتا ہے تو اس دن سے تیار ہو کر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں کہ کب خطبہ آئے اور میں نئے سال کا اعلان کروں تو ہم اپنا چندہ دیں یا وعدہ لکھوائیں۔میں جانتا ہوں کہ ایسے بھی ہیں جو رقم جمع کر کے بیٹھے ہوتے ہیں کہ جب اعلان ہو تو فوری طور پر اپنے وعدے کے ساتھ ادائیگی بھی کر دیں۔خدا تعالیٰ سے ادھار نہیں رکھتے۔ایسے بھی ہیں جو یہ سوچ رکھتے ہیں کہ اگر قرض لے کر اپنی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں تو تحریک جدید کا وعدہ اور دوسرے چندے کیوں ادا نہیں کئے جاسکتے۔حالانکہ نفس کا حق ادا کرنا بھی بڑا ضروری ہے۔لیکن ہر ایک کا اپنے خدا کے ساتھ علیحدہ معاملہ ہے۔اس لئے باوجود بہت سے لوگوں کے علم ہونے کے کہ ان کی ایسی حالت نہیں ہے، میں ان کو یہ نہیں کہتا کہ چندہ واپس لے لو۔ان کو توجہ ضرور دلاتا ہوں کہ اپنا اور اپنی بیوی بچوں کا حق بھی ادا کرو۔تو جواب ان کا یہی ہوتا ہے کہ یہی تو ہم خدا تعالیٰ سے سودا کرتے ہیں بلکہ ایسے لوگوں کی بیویاں بھی بڑھ چڑھ کر قربانی کر رہی ہوتی ہیں اور احمدی عورتیں تو میں نے دیکھا ہے کہ ماشاء اللہ مردوں سے مالی قربانی میں زیادہ آگے بڑھی ہوئی ہیں۔ابھی آپ نے سنائیں نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ امیر صاحب نے مجھے رپورٹ دی کہ لجنہ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔اسی طرح جرمنی میں جو برلن کی مسجد ہے لجنہ تعمیر کر رہی ہے وہاں بھی لجنہ UK نے تقریباً پونے دولاکھ پاؤنڈ ادا کئے ہیں۔برطانیہ میں جو نئی مسجد میں بنانے اور سینٹرز خریدنے کی روچلی ہے اس میں بھی میں سمجھتا ہوں کہ احمدی عورتوں کا بڑا ہا تھا اور کردار ہے۔اس کا اظہار کئی میٹنگز میں اور شوریٰ میں احمدی عورتوں کی طرف سے ہوتا ہے۔میرے سامنے بھی کئی دفعہ ہو چکا ہے۔ملاقاتوں میں بھی اظہار کرتی ہیں کہ فوری طور پر مسجد بنی چاہئے کیونکہ یہ ہمارے بچوں کی تربیت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔پس یہ ہے احمدیت کی خوبصورتی۔یہ ہے وہ انقلاب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم میں پیدا کیا ہے ، ہماری ماؤں، بہنوں ، بیٹیوں میں بھی پیدا کیا ہے اور جب تک کہ یہ روح