خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 460
460 خطبه جمعه فرموده 7 نومبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم ہے اور میری یہ خواہش ہے کہ اگر ہم نے مسلمان ہی ہونا ہے تو پھر احمدی مسلمان ہوں تا کہ صحیح راستے پر چلنے والے ہوں۔تو یہ جو رجحان پیدا ہورہا ہے اس کو سنبھالنا ہے اور جب ہم مسجد بناتے ہیں تو ایک نیا تعارف جماعت کا ہوتا ہے۔نئے نئے تعارف کے راستے کھلتے ہیں۔امیر صاحب نے جور پورٹ دی تھی اس میں لجنہ کی تعریف کی گئی تھی کہ فنڈ ز کی وصولیوں میں لجنہ اماءاللہ UK نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے لیکن خدام الاحمدیہ پر ان کو کچھ شکوہ تھا۔تو جہاں تک خدام الاحمدیہ کا سوال ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے بھی اپنا وعدہ پورا کر دیا لیکن بہر حال اگر نہیں کیا تو وہ اس شکوہ کو دور کریں۔دوسری مسجد کا جو میں نے کہا کہ شیفیلڈ میں مسجد بن رہی ہے یہاں بھی 1985ء سے جماعت قائم ہے اور اب جہاں موجودہ جائیداد ( پراپرٹی ) خریدی گئی ہے اور مسجد بنائی ہے یہ 2006ء میں خریدی گئی تھی اور وہاں بھی 5لاکھ پاؤنڈ کی لاگت سے مسجد تیار ہوئی ہے۔2006ء میں وہاں چند ایک لوگ تھے۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے 200 کی جماعت ہے۔اس مسجد کی گنجائش بھی 300 نمازیوں کی ہے۔اسی طرح کچھ سینٹرز خریدے گئے ہیں۔لیمنگٹن سپا Liamington Spa) میں اور ہڈرز فیلڈ میں ایک نئی جگہ خریدی گئی ہے۔یہ ڈیڑھا کیٹر کی جگہ ہے جہاں انشاء اللہ کسی وقت آئندہ جلد امید ہے مسجد تعمیر ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ وہاں بھی جلد تعمیر کرنے کی توفیق دے۔ہمیں اللہ تعالیٰ کا اس بات پر شکر ادا کرنا چاہئے کہ دنیائے احمدیت میں مسجدوں کی تعمیر کی طرف جو توجہ ہو رہی ہے اس میں UK والے بھی حصہ دار بن رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو جلد جو ٹارگٹ میں نے بیان کیا ہے اس کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔لیکن ہمیشہ یہ یا درکھنا چاہئے کہ کیا عمارت بنا دینا اور ایک خوبصورت عمارت بنا دینا کافی ہے۔کیا یہی بات ہمیں اس حدیث میں بتائے گئے انعام کا وارث بنائے گی جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اس دنیا میں اللہ کا گھر بنایا اس نے اگلے جہان میں اپنا گھر بنایا۔یقیناً مسجد بنانا ایک نیک کام ہے اور اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے تبھی تو اگلے جہان میں بھی اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے ایک گھر بنانے کی خوشخبری دی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے اس گھر کو تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے وہ مقصد پورا کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔اپنی نیتوں کو خالص کرتے ہوئے وہ جذبہ پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو دلوں کا حال جانتا ہے، جس کے علم میں ہے کہ بندے کے دل میں کسی کام کے کرنے کی نیت کیا ہے اُس خدا کے لئے وہ خالص دل پیدا کرنا ضروری ہے جس میں اس کی رضا کے حصول کا مقصد کوٹ کوٹ کر بھرا ہو۔جس میں خالصتا اللہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا جذبہ بھی موجزن ہو۔پس میں امید کرتا ہوں کہ مسیح محمدی کے غلام ہونے کے ناطے یقیناً یہ جذبہ ہر احمدی کے دل میں ہے اور یہاں بھی ہر احمدی کے دل میں یہ مسجد