خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 459 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 459

459 خطبہ جمعہ فرموده 7 نومبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم یہاں جماعت کی تاریخ تو بہت پرانی ہے۔1962ء سے یہاں جماعت قائم ہے۔1968ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث یہاں تشریف لائے تھے ، پھر 1973ء میں دوبارہ تشریف لائے تھے اور 1979ء میں جو اس وقت آپ کا سینٹر استعمال ہو رہا ہے اس کو خریدا گیا تھا۔پھر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع 1982ء میں یہاں تشریف لائے تھے اور پھر 1989ءاور 1992ء میں بھی آپ یہاں تشریف لائے اور حضرت خلیفتہ مسیح الرابع کے کہنے پر یہاں مسجد کے لئے جگہ تلاش کی گئی اور پھر 2001ء میں اس کی پلاننگ Permission مل گئی تھی اور 2004 ء میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔اس مسجد کی تعمیر پر اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق 2۔3 ملین پاؤنڈ یعنی 23 لاکھ پاؤنڈز خرچ ہوئے ہیں اور اس کی گنجائش 600 افراد کے لئے ہے۔ایک مردوں کا ہال ہے۔اتنا ہی عورتوں کا ہال ہے۔اس کے علاوہ ایک اور ہال ہے۔اور اس کی تعمیر میں کمپنی کے کام کے علاوہ ہمارے والینٹیئر ز (Volunteers) نے بھی کافی کام کیا۔رشید صاحب ہیں، شاہد صاحب ہیں اور بعض دوسرے لوگ ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔اس مسجد کے فنڈ کے لئے صرف بریڈ فورڈ جماعت نے ہی فنڈ ز ا کٹھے نہیں کئے بلکہ لجنہ اماءاللہ UK کو میں نے کہا تھا کہ وہ اس میں بڑا حصہ ڈالیں اور اسی طرح خدام الاحمدیہ کو بھی کیونکہ ہارٹلے پول کی مسجد انصار اللہ کی رقم کے بہت بڑے حصے سے تعمیر ہوئی تھی۔تو بہر حال لجنہ اماءاللہ نے اس میں بڑھ چڑھ کر چندے دیئے اور اسی طرح خدام الاحمدیہ نے بھی اور پھر لوکل بریڈ فورڈ کی جماعت نے بھی کافی قربانی کی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔UK جماعت میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب بیداری پیدا ہو رہی ہے۔پہلے تو کئی سالوں کے بعد ایک مسجد کی تعمیر ہوتی تھی یا سینٹرز خریدے جاتے تھے لیکن اب ان کو بھی Purpose built مسجدیں بنانے کا خیال آیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو جاری رکھے اور فی الحال جو انہوں نے 25 مساجد کا اپنا ٹارگٹ مقرر کیا ہے اس کو جلد سے جلد حاصل کرنے والے ہوں۔یورپ میں جہاں ایک طبقہ مخالفت میں بڑھ رہا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک طبقہ خاص طور پر نو جوانوں میں ایسا بھی ہے جن کا اسلام کی طرف رجحان پیدا ہو رہا ہے۔تعلیم تو وہ قرآن کریم سے دیکھتے ہیں، تاریخ پڑھتے ہیں، واقعات دیکھتے ہیں۔UK میں جو اسلام کا عروج ہوا اس کو دیکھتے ہیں۔پھر جو ترقیات اسلام کے ذریعہ سے اس وقت ملیں اس سے متاثر ہوتے ہیں اور پھر کیونکہ جماعت احمد یہ بعض علاقوں میں بہت مختصر تعداد میں ہے، اتنا تعارف بعض جگہ پر نہیں ہے، لوگ جانتے نہیں ہیں، تو جن مسلمان گروہوں کے پاس جاتے ہیں ان کے ذریعہ سے جب مسلمان ہوتے ہیں تو بعض دفعہ غلط راستوں پر چل پڑتے ہیں۔اس لئے میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ فرانس کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر ایک جرمن ڈپلومیٹ آئے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ جرمنی کے نو جوانوں کا اسلام کی طرف بڑا رجحان