خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 452 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 452

خطبات مسرور جلد ششم 452 خطبه جمعه فرموده 31اکتوبر 2008 depression کی ٹرم ہے۔اس کا موٹا مطلب یہ ہے کہ recession وہ ہے جو عارضی معاشی بحران ہوتا ہے اور depression وہ ہے جو مستقل معاشی بحران ہوتا ہے۔لیکن اس وجہ سے اور لوگوں میں بھی depression پیدا ہو جاتا ہے۔جب نوکریاں چھٹتی ہیں جیسا کہ میں نے کہا اور وہ بیماری کا Depression ہے اور یہ معاشی بحران جو آیا ہے تو اس نے دنیا میں لاکھوں لوگوں کی نوکریاں چھڑوا دیں۔پس اب بھی اگر دنیا میں عقل ہے تو اس سودی نظام سے جان چھڑانے کی کوشش کرنی چاہئے۔وہ تجارت کریں جسے اللہ تعالیٰ نے جائز قرار دیا ہے اور مسلمان ممالک بھی جن کے حالات بہتر ہیں اپنی مثالیں قائم کریں۔مسلمان کو سود کی سختی سے مناہی کی گئی ہے۔ورنہ پھر اس دنیا کے بعد آخرت کی سزا کی بھی وارننگ ہے۔جو ممالک اپنے وسائل ہوتے ہوئے ایماندار نہیں ہیں اور ان کی حکومتیں اپنے وسائل ضائع کر رہی ہیں یا اپنے ذاتی مفاد اٹھا رہی ہیں ان کو بھی ہوش کرنی چاہئے۔مثلاً پاکستان ہے یا اس جیسے اور ممالک ہیں جن کے لیڈروں نے کبھی بھی اپنے ملک سے وفا نہیں کی اور ملک کو ٹوٹتے ہی رہے ہیں اور دنیا سے قرضے لے لے کر اس پر گزارا کرتے رہے ہیں۔ابھی چند دن ہوئے بڑی خوشی سے یہ اعلان ہوا کہ چار سوملین یا پتہ نہیں کتنے سوملین ڈالر کا پاکستان کے لئے قرض دوبارہ منظور ہو گیا ہے۔اس کی واپسی کس طرح ہوگی؟ کچھ پتہ نہیں ہے۔کیونکہ پہلی پیمنٹ (Payment) جوا نہوں نے کرنی ہے، جو قرضے دینے ہیں اس کے بارے میں ایک شور پڑا ہوا ہے۔بڑا شور تھا کہ ہمارے فارن ایکسچینچ کے ریزرو بڑھ گئے۔اب جب حقیقت ساری ظاہر ہوئی تو پتہ لگا کہ ان کے پلے کچھ بھی نہیں۔حالانکہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل سے بھی نوازا ہوا ہے اور زراعت کے لحاظ سے بہترین موسمی لحاظ سے، زمینوں کے لحاظ سے بھی نوازا ہوا ہے۔لیکن مانگنے اور قرض لینے کی اور اپنے وسائل کو صحیح طور پر استعمال نہ کرنے کی ایسی عادت پڑ گئی ہے کہ پھر غیرت بھی ختم ہو گئی ہے۔یہی حال بعض افریقن ملکوں نائیجیریا کا ہے۔تیل کی دولت سے مالا مال ہے لیکن ان کے لیڈروں کو بھی کوئی خیال نہیں۔بہر حال اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ خدا کو بھلا کر ، اس تعلیم پر عمل نہ کر کے سودی نظام میں پھنس گئے ہیں ، لالچوں میں پھنس گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ سود دینے والوں کو فرماتا ہے کہ تمہارے خیال میں جو مال سود کی وجہ سے بڑھ رہا ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں بڑھتا۔اور جو اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا اس میں پھر برکت نہیں پڑسکتی۔پس جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ مسلمان ممالک جو سود پر بینکوں میں رقم رکھتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کی اس تنبیہ کے نتیجہ میں زیادہ بڑی سزا ملے گی۔اس لئے یہ خیال کرنا کہ ہم محفوظ ہیں بالکل غلط خیال ہے۔بلکہ اب تو حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ غیر مسلم بھی اس سزا کے جال میں آگئے ہیں ، اس پکڑ میں آگئے ہیں اور وقتا فوقتا آتے رہیں گے۔اس آیت میں جو آیت نمبر 40 ہے اس میں زکوۃ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو غریبوں کا حق ہے۔پہلے بھی