خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 445
خطبات مسرور جلد ششم 445 (44) خطبه جمعه فرموده 31اکتوبر 2008 فرموده مورخه 31 اکتوبر 2008ء بمطابق 31 را خاء1387 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ان آیات کی تلاوت فرمائی: أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاء وَيَقْدِرُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔فَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ذَلِكَ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔وَمَا أَتَيْتُمْ مِنْ رَبَّا لِيَرْبُوا فِى أَمْوَالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ۔وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكَوةٍ تُرِيدُونَ وَجُهَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ اللهُ الَّذِى خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمُ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُم مَّنْ يَفْعَلُ مِنْ ذَلِكُمْ مِّنْ شَيْءٍ سُبْحَنَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ ( الروم: 38 تا 41) ان آیات کا ترجمہ ہے کہ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے۔یقیناً اس میں ایمان لانے والی قوم کے لئے بہت سے نشانات ہیں۔پس اپنے قریبی کو اس کا حق دو، نیز مسکین کو اور مسافر کو۔یہ بات ان لوگوں کے لئے اچھی ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں اور جو تم سُود کے طور پر دیتے ہوتا کہ لوگوں کے اموال میں مل کر وہ بڑھنے لگے۔اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا اور اللہ کی رضا چاہتے ہوئے تم جو کچھ زکوۃ دیتے ہو تو یہی ہیں وہ لوگ جو اسے بڑھانے والے ہیں۔اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔پھر تمہیں رزق عطا کیا۔پھر وہ تمہیں مارے گا اور وہی تمہیں پھر زندہ کرے گا۔کیا تمہارے شرکاء میں سے بھی کوئی ہے جو ان باتوں میں سے کچھ کرتا ہو۔وہ بہت پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔یہ آیات جن کی میں نے تلاوت بھی کی اور ترجمہ بھی پڑھا ہے۔ان کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رزاق ہونے کا اعلان فرمایا ہے کہ رزق میں کشائش وہ عطا فرماتا ہے اور تنگی بھی۔کسی کا اگر رزق تنگ کرتا ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔رزق کو دیتا بھی وہی ہے اور رزق کو روکتا بھی وہی ہے۔فرمایا کہ حقیقی مومن کو اللہ تعالیٰ کی صفتِ رزاق بہت نشان دکھاتی ہے اگر اس کا ایمان پختہ ہو۔آج کل جو دنیا کے معاشی حالات ہیں ، جس معاشی بحران سے دنیا ہمیں گزرتی نظر آ رہی ہے، جس سے امیر ملک بھی متاثر ہیں اور غریب ممالک بھی صنعتی ممالک بھی متاثر ہیں اور زراعت پر انحصار رکھنے والے ممالک بھی۔اور وہ بھی جو سمجھتے ہیں کہ تکنیکی مہارت ہمارے پاس اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ