خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 444
خطبات مسرور جلد ششم 444 خطبہ جمعہ فرموده 124اکتوبر 2008 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: نادان مولوی اگر اپنی آنکھیں دیدہ و دانستہ بند کرتے ہیں تو کریں۔سچائی کو ان سے کیا نقصان؟ لیکن وہ زمانہ آتا ہے، بلکہ قریب ہے کہ بہتیرے فرعون طبع ان پیشگوئیوں پر غور کرنے سے غرق ہونے سے بچ جائیں گے۔خدا فرماتا ہے کہ میں حملہ پر حملہ کروں گا یہاں تک کہ میں تیری سچائی دلوں میں بٹھا دوں گا۔پس اے مولویو! اگر تمہیں خدا سے لڑنے کی طاقت ہے تو لڑو۔مجھ سے پہلے ایک غریب انسان مریم کے بیٹے سے یہودیوں نے کیا کچھ نہ کیا اور کس طرح اپنے گمان میں اُس کو سولی دے دی۔مگر خدا نے اس کو سولی کی موت سے بچایا۔اور یا تو وہ زمانہ تھا کہ اس کو صرف مگار اور کذاب خیال کیا جاتا تھا اور یا وہ وقت آیا کہ اس قدر اُس کی عظمت دلوں میں پیدا ہوگئی کہ اب چالیس کروڑ انسان اُس کو خدا کر کے مانتا ہے۔اب تو اور تعداد بڑھ گئی ہے۔فرماتے ہیں: ” اگر چہ ان لوگوں نے کفر کیا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا۔مگر یہ یہودیوں کا جواب ہے کہ جس شخص کو وہ لوگ ایک جھوٹے کی طرح پیروں کے نیچے کچل دینا چاہتے تھے وہی یسوع مریم کا بیٹا اس عظمت کو پہنچا کہ اب چالیس کروڑ انسان اُس کو سجدہ کرتے ہیں اور بادشاہوں کی گردنیں اُس کے نام کے آگے جھکتی ہیں۔سوئیں نے اگر چہ یہ دعا کی ہے کہ یسوع ابن مریم کی طرح شرک کی ترقی کا میں ذریعہ نہ ٹھہرایا جاؤں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ایسا ہی کرے گا۔لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا۔اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔اور ہر ایک قوم اس چشمے سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلاء آئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔اور خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔سواے سننے والو! ان باتوں کو یا د رکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔میں اپنے نفس میں کوئی نیکی نہیں دیکھتا اور میں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا اور میں اپنے تیں صرف ایک نالائق اور مزدور سجھتا ہوں۔یہ حض خدا کا فضل ہے جو میرے شامل حال ہوا۔پس اُس خدائے قادر اور کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس مُشت خاک کو اُس نے باوجود ان تمام بے ہنریوں کے قبول کیا۔(تجلیات الہیہ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 409-410-مطبوعہ لندن) اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی احمدی بنتے ہوئے یہ سب نظارے اور ترقیات دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔جس کے وعدے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمائے ہیں۔الفضل انٹرنیشنل جلد 15 شماره 46 مورخہ 14 نومبر تا 20 نومبر 2008ءصفحہ 5 تا صفحہ 8)