خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 443
خطبات مسرور جلد ششم 443 خطبه جمعه فرموده 24 اکتوبر 2008 وہاں سے پھر اسی دن شام کو ، ان کے اجتماع کے فوراً بعد ہماری واپسی ہوئی۔یہاں واپسی جلدی اس لیئے تھی کہ ہمارے مسجد فضل کے علاقہ کی ایم پی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں خلافت جو بلی کے حوالے سے ایک ریسیپشن (Reception) کا انتظام کیا ہوا تھا۔وہاں دریا کے کنارے ہاؤس آف کامن والا جو ٹیرس (Terrace) ہے کے ایک ہال میں یہ تقریب تھی۔پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر یہ تقریب منعقد ہونے کی وجہ سے کافی تعداد میں ایم پی ایز (M۔Ps) اور پارلیمنٹیرینز (Parlimentarians) اللہ تعالیٰ کے فضل سے شامل ہوئے۔اس میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد، خلافت کا کیا کام ہے، اسلام کی امن پسند تعلیم اور آج کل دنیا میں کس طرح امن قائم ہو سکتا ہے اور بڑی طاقتوں کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور آج کل کے اقتصادی بحران کی وجہ سودی نظام ہے ،اس بارہ میں ان کو قرآن کریم کی روشنی میں کچھ وقت کہنے کا موقع ملا۔یہ چیز ان کے لئے بڑی حیرت انگیز تھی اور بعض پارلیمنٹیرینز اور سفیر اور دوسرے سفارتکار بعد میں ملنے آتے رہے، انہوں نے اچھا اثر لیا اور اس کا اظہار کیا۔یہ صرف اچھا اخلاق دکھانے کے لئے نہیں تھا کہ وہ ریسیپشن ہے تو دکھا دیں بلکہ بعد میں جس طرح وہ مجھے ملے ہیں اور اس تقریر کا ٹیکسٹ (Text) بھی مانگ رہے تھے تو اس سے لگ رہا تھا کہ حقیقت میں وہ چاہتے ہیں کہ جو باتیں کی ہیں اس کو غور سے دیکھیں اور سمجھیں اور بعض نے وہاں بیٹھ کر نوٹ بھی لئے۔لگتا ہے کہ یہ لوگ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اپنے نظام کو بدلیں اور کم از کم یہ دیکھیں کہ کہاں سے انہیں اچھی باتیں مل سکتی ہیں۔وہیں پارلیمنٹ ہاؤس میں اللہ تعالیٰ نے ظہر وعصر کی نمازیں پڑھنے کا بھی موقع دیا۔بہر حال یہاں لندن میں ایک دو ہفتے کے دوران یہ فنکشن بھی ہو گیا۔پارلیمنٹ ہاؤس میں، جیسا کہ میں نے کہا اسلام کا پیغام سننا اور دلچسپی سے سنا ان لوگوں کی بدلتی ہوئی سوچوں کی عکاسی کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ہی یہ کام ہو رہا ہے ورنہ ہماری کوششوں سے نہیں ہوسکتا تھا۔جیسا کہ میں نے کہا ہم اگر ان فضلوں کی منادی کر کر کے زندگیاں بھی ختم کر لیں تو حق ادا نہیں کر سکتے۔بہر حال اس کی رپورٹ بھی ایم ٹی اے یا اخباروں کی رپورٹس میں آجائے گی۔یہ لوگ جیسا کہ میں نے جرمنی کا بھی کہا تھا کہ بعض مسلمانوں نے اعتراض کیا اور ہم پہ یہ الزام لگائے ہیں کہ یہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے۔کیا اسلام کا پیغام اور قرآن کریم کی تعلیم ان لوگوں کو ان کا کوئی پروردہ بتا سکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دشمنی نے ان لوگوں کو اندھا کر دیا ہے۔نہیں دیکھتے کہ خدا کی تقدیر کس طرف جا رہی ہے۔اپنا کیا برا حال ہو رہا ہے۔کسی تباہی کے گڑھے میں گرتے چلے جارہے ہیں۔لیکن خاص طور پر جو یہ ملاں ہیں ان میں احمدیت کی دشمنی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دشمنی بجائے کم ہونے کے بڑھتی چلی جارہی ہے۔آج مسلمانوں کی بقا اسی میں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سنیں اور مانیں۔