خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 442
442 خطبه جمعه فرموده 24 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم خود کاشتہ پودا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ 1923ء میں بھی جب برلن مسجد بنے لگی تھی تو اس وقت بھی ہمارے مخالفین میں ایک مصری تنظیم تھی جس نے جرمن حکومت کو یہ کہہ کر ہمارے خلاف بھڑ کانے کی کوشش کی تھی کہ یہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے اور جرمنوں کے خلاف ہیں۔اس طرح کے الزامات تھے۔اس پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مولوی مبارک علی صاحب کو جو یہاں پہلے مبلغ تھے، ایک مضمون وہاں سے لکھ کے بھجوایا جس میں تفصیل سے اس بات کا رڈ کیا گیا تھا اور فرمایا تھا کہ اسے وہاں اخباروں میں بھی شائع کریں اور لوگوں تک بھی پہنچائیں۔وہی اعتراضات آج کل بھی ہو رہے ہیں۔یہ اتفاقاً کل ہی مجھے پرانی تاریخی بات مولا نا دوست محمد صاحب نے بھجوائی تھی۔ان لوگوں کو اس مضمون میں واضح کیا گیا تھا کہ ہم تو ہر ملک کے وفادار ہیں۔جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے ساتھ ہماری وفاداری ہے لیکن ہر طبقے تک، ملک کے ہر فرد تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہمارا فرض ہے جو ہم پہنچاتے ہیں اور اس لئے ہم مسجد بنا رہے ہیں۔لیکن ان لوگوں کو تو جرات نہیں ہے کہ کھل کر اظہار کرسکیں۔عبدالباسط صاحب جو برلن میں ہمارے مبلغ ہیں انہوں نے وہاں سے جو بعد کی رپورٹ بھیجی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہفتہ، جس روز میں وہاں سے آیا ہوں اور اتوار کے روز مسلسل جرمن افراد خدیجہ مسجد آتے رہے۔ان دو دنوں میں تقریباً 900 افراد مسجد آئے اور ان کی خاطر تواضع کی گئی اور برلن کے مختلف حصوں سے مسجد دیکھنے کے لئے ہمسائے بھی آئے اور تصویریں بھی کھینچیں۔برلن کے بچوں ناصرات اور اطفال نے ان کی خوب مہمان نوازی کی اور کر رہے ہیں اور مسجد کا تعارف بھی کرا رہے ہیں اور عبادت کے بارے میں بھی بتا رہے ہیں۔اور ان چھوٹے چھوٹے بچوں کو کام کرتے دیکھ کر بھی لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔لکھتے ہیں کہ جرمن زائرین اور بعض معمر زائرین نے خاکسار کے پاس آ کر خصوصی طور پر حیرت کا اظہار کیا کہ کس طرح 10 اور 12 سال کے معصوم بچے اور بچیاں اسلام کے بارے میں معلومات مہیا کرتے ہیں۔خاکسار نے بتایا کہ ان کی ماؤں نے ان کو اس کی تعلیم دی ہے اور جماعت میں تعلیم وتربیت کا منظم نظام ہے۔تو بچوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے وہاں تبلیغ کے مواقع پیدا کر دیئے۔ایک ہمسایہ جرمن نے خاکسار کو لکھا کہ بطور ہمسائے کے میں آپ کو اس علاقے میں دلی طور پر خوش آمدید کہتی ہوں۔ہم بہت خوش ہیں کہ آخر کار ہمارے پاس بھی دوسرا کلچر اور دوسرا مذہب آیا ہے۔برلن چرچ کے ایک نمائندے نے ان کو خط لکھا کہ چرچ کی طرف سے آپ کی جماعت کے ممبران اور آپ کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی پذیرائی ہوئی ہے۔وہی مخالفت پذیرائی میں بدل گئی ہے۔بران مسجد کے افتتاح کے بعد اگلے دن ہفتہ کو جیسا کہ میں نے بتایا میں وہاں سے آ گیا تھا۔ہم بلجیم آئے وہاں انصار اللہ کا اجتماع تھا۔اللہ کے فضل سے وہاں بھی جماعت اکٹھی تھی اور ان کے لحاظ سے ان کو کہنے کا کچھ موقع مل گیا۔