خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 433 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 433

خطبات مسرور جلد ششم 433 (43) خطبه جمعه فرموده 24 اکتوبر 2008 فرمودہ مورخہ 24 را کتوبر 2008ء بمطابق 24 راخاء 1387 ہجری تشی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنی اولاد کی آمین پر کہا گیا ایک طویل منظوم کلام ہے یا ایک کہی گئی نظم ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا ذکر ہے اور ان فضلوں کے ذکر کے ساتھ ہر بند اس طرح بند ہوتا ہے یا اس کے آخر پر اس طرح مصرعہ آتا ہے کہ فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي یعنی پاک ہے وہ جس نے میرے دشمنوں کو پکڑا ، یا انہیں ذلیل ورسوا کیا۔اس کلام کا ایک شعر یہ بھی ہے کہ ؎ ہوا میں تیرے فضلوں کا منادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں کی جو بارش برسائی وہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ہمیشہ برسنے والی بارش ہے۔اللہ تعالیٰ آج آپ کی وفات کے سوسال گزرنے کے بعد بھی اپنے فضلوں سے ہر آن آپ کی جماعت کو نواز رہا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ نواز تارہے گا اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی منادی رہے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں اس یقین پر قائم فرما گئے ہیں کہ یہ فضل جو تم پر برستے ہیں یا برستے رہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ یہ آخری نتیجہ تک پہنچیں گے۔ہاں راستے کی روکیں آتی رہیں گی لیکن اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے دور بھی فرماتا رہے گا اور ترقی کرتے چلے جانا اور آگے بڑھتے چلے جانا اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا مقدر ہے۔آپ فرماتے ہیں: ”وہ اس سلسلے کو پوری ترقی دے گا کچھ میرے ہاتھ سے اور کچھ میرے بعد“۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304) پھر آپ دشمن کے ہنسی ٹھٹھے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ پھر دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے۔” اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے۔جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدرنا تمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔( رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304)