خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 429

429 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرمودہ 17 اکتوبر 2008 القاء کے یکا یک میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ آیہ کریمہ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ میں تینوں وجیوں کا ذکر ہے۔مَا اُنْزِلَ إِلَيْكَ سے قرآن شریف کی وحی، اور مَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ سے انبیاء سابقین کی وحی اور اخرۃ سے مراد مسیح موعود کی وحی ہے“۔آخرت کے معنی ہیں پیچھے آنے والا۔آپ فرماتے ہیں: ” آخرت کے معنی ہیں پیچھے آنے والی۔وہ پیچھے آنے والی چیز کیا ہے؟ یہاں پیچھے آنے والی چیز سے مراد وہ وہی ہے جو قرآن کریم کے بعد نازل ہوگی کیونکہ اس سے پہلے وحیوں کا ذکر ہے“۔در یویو آف ریلیجنز جلد 14 نمبر 4 بابت ماد مارچ اپریل 1915 صفحہ 164 حاشیہ۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلداول صفحہ 445 مطبوعہ ر بود) آخرت کا مطلب بے شک جزا سزا کا دن بھی ہے اور یہ مطلب خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہوا ہے۔لیکن جو وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے زمانے اور اپنی وحیوں سے تعلق میں بتائی ہے وہ یہاں بھی صادق آتی ہے۔کیونکہ اس زمانہ میں مساجد تو بہت بن رہی ہیں لیکن حقیقی مساجد آباد کرنے والے وہی ہوں گے جو مسیح موعود کو مانے والے ہوں گے۔کیونکہ ایمان کی طرف صحیح راہنمائی بھی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہی کرنی ہے۔خدا اور آنحضرت ﷺ سے تعلق مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہی جوڑنا ہے۔پس جہاں ہمیں یہ بات تسلی دلاتی ہے کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ہی مسجدوں کی تعمیر اور آبادی کا حقیقی حق ادا کرنے والی ہے وہاں ایک خوف بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ صرف ایمان لا کر اور مسجد تعمیر کر کے ہی حق ادا ہو جاتا ہے؟ یا کچھ اور بھی کام کرنے والے ہیں۔اور ان کاموں کی طرف اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے حکم فرما دیا کہ نماز قائم کرو اور نماز قائم کرنے کے لئے جو دوسری جگہ وضاحت بیان فرمائی ہے اس میں فرمایا کہ پانچ وقت کی نمازیں پڑھنا ہے اور باجماعت نماز پڑھنا ہے۔پس ایک تو یہ بات یادرکھنے والی ہے کہ مسجدوں کا حسن ان کی آبادی سے ہے اور ان کی آبادی پانچ وقت مسجد میں آنے سے ہے۔اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کی آبادی کے لئے قیام نماز ہو۔یہاں کے مقامی لوگوں کو جو جرمن ہیں یہی شکوه شکوہ ہے کہ یہاں تو آپ کی اتنی تعداد نہیں ہے پھر مسجد اس علاقہ میں بنانے کی کیا ضرورت تھی۔تو ان لوگوں کا یہ نہ بھی اس طرح دور ہو سکتا ہے کہ جب ان کو پتہ لگے کہ یہ احمدی ہیں اور وہ لوگ ہیں جو اپنے ایمان کی مضبوطی کے لئے ایک خدا کے آگے جھکنے کے لئے باقاعدہ مسجد میں آتے ہیں۔انہوں نے عمارت صرف دکھانے کے لئے نہیں بنائی بلکہ ایک خدا کی عبادت کرنے کے لئے اس جگہ اس عمارت کو کھڑا کیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زکوۃ دیتے ہیں۔اپنے مال میں سے غریبوں کا بھی خیال رکھتے ہیں اور جماعت کی متفرق ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔اس بات پر ان لوگوں کو بڑی حیرت ہوتی ہے کہ مالی قربانی کر کے مسجد میں بناتے ہیں۔اس کا اخباروں میں ذکر بھی ہوا ہے کہ لجنہ کی قربانی سے یہ مسجد بنی ہے۔اس کا میں نے پہلے بھی ذکر کیا