خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 428 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 428

428 خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کیا ہمارا ایمان اس قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی ایمان کہلا سکے؟ یا کیا ہم حقیقی مومن کے زمرے میں آتے ہیں؟ ہم پر خدا تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس زمانہ میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل کیا جنہوں نے قدم قدم پر ہماری راہنمائی فرمائی۔ہمیں سیدھے راستے پر رکھنے اور حقیقی مومن بننے کے لئے بے شمار اور مختلف ذریعوں سے ہماری راہنمائی فرمائی۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں۔جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ را ہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے ہیں اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بُت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمال فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب سے اپنے تئیں دور تر لے جاتے ہیں۔پس یہ وہ ایمان ہے جو ہمیں کامل الایمان بنائے گا۔فاسقانہ اعمال کے بارے میں تو کسی احمدی کے متعلق سوچا بھی نہیں جا سکتا۔لیکن اگر ہمارے اخلاق میں ادنی سی بھی کمزوری ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک ہمیں اپنی حالت کی طرف توجہ کرنی چاہئے کہ یہ ہمارے ایمان میں کمزوری پیدا کر سکتی ہے۔لیکن ہمارا ہر عمل اور فعل اگر خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہے تو پھر ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ ہماری یہ کمزوریاں بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے دور فرما تا چلا جائے گا اور یہی بات پھر ایمان میں مضبوطی بھی پیدا کرتی ہے۔ہم اگر آپس کے روز مرہ کے تعلقات نبھا رہے ہیں ، خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک دوسرے کے حق ادا کر رہے ہیں تو یہ باتیں ہمارے ایمان میں اضافے کا باعث بنانے والی ہوں گی۔پس ان معیاروں کو حاصل کرنے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے۔بعض دفعہ بعض عمل جان بوجھ کر ایک انسان نہیں کرتا لیکن غفلت اور سستی راہ میں حائل ہو جاتی ہے۔اس میں عبادت کی ادائیگی میں کمزوری بھی ہے اور دوسری ایسی باتیں بھی ہیں جو خدا تعالیٰ کو نا پسند ہیں جن کے بارے میں خدا تعالیٰ نے ہمیں تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ تمہارے فرائض ہیں، انہیں پورا کرو۔اگر انسان لا پرواہی اور غفلت کی وجہ سے انہیں پورا نہیں کرتا تو آہستہ آہستہ یہ چیزیں پھر ایمان کی کمزوری اور شرک کی طرف لے جاتی ہیں۔پس ایک احمدی کو ہر قسم کے حقوق کی ادائیگی کے لئے ہر وقت اپنے جائزے لیتے رہنا چاہئے۔کیونکہ کسی بھی قسم کی نیکی سے جن کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے غفلت برتنا یا ان کے کرنے میں سستی دکھانا مومن کا شیوہ نہیں ہے۔اس پہلی آیت میں جو میں نے پڑھی جو سورۃ توبہ کی آیت 18 ہے، اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ پر ایمان کامل ہو اور یوم آخر پر بھی۔اور یوم آخرت کے بارہ میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” آج میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ قرآن شریف کی وحی اور اس سے پہلے وحی پر ایمان لانے کا ذکر تو قرآن شریف میں موجود ہے ہماری وحی پر ایمان لانے کا ذکر کیوں نہیں؟ اور اسی امر پر توجہ کر رہا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور