خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 421
خطبات مسرور جلد ششم 421 خطبه جمعه فرموده 10 اکتوبر 2008 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: دو وفاتوں کی افسوسناک اطلاع ہے جن کے جنازے ابھی میں جمعہ کے بعد پڑھاؤں گا۔ایک تو ہیں ہمارے مولانا بشیر احمد صاحب قمر جوصدرا انجمن احمدیہ پاکستان کے ناظر تعلیم القرآن و وقف عارضی تھے۔ان کی کل 9ر1اکتوبر کو وفات ہوئی ہے، آپ کی عمر 74 سال تھی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اور آخر وقت تک اللہ تعالیٰ نے ان کو خدمت کی توفیق دی ، کچھ عرصہ پہلے یا چند دن پہلے ان کو انفیکشن ہوا۔اس کے بعد نمونیہ ہو گیا تھا جو وفات کی وجہ بنا۔آپ نے 1950ء میں اپنی زندگی وقف کی تھی۔1958ء میں شاہد کا امتحان پاس کیا اور پھر پاکستان میں، غانا میں، نجی میں خدمت کی توفیق پائی۔آپ کو 1999ء میں ناظر تعلیم القرآن مقرر کیا گیا تھا۔بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے، بہت سادہ مزاج تھے، افریقہ میں میرے ساتھ بھی رہے ہیں ، میں نے دیکھا کہ افریقن لوگوں کے ساتھ بڑا پیار اور محبت کا سلوک تھا۔بڑے انتھک محنتی اور اکیلے رہے اور کوئی شکوہ نہیں اور خود ہی کھانا پکا بھی لیتے تھے، مختصر سی خوراک، بڑے دعا گو، نیک اور متقی انسان تھے۔وفات سے ایک دن پہلے انہوں نے مجھے اپنی صحت کے بارہ میں مختصر خط لکھا بڑے ٹوٹے ہوئے الفاظ میں اور ساتھ لکھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو نیک، مددگار اور تعاون کرنے والے لوگ ہمیشہ مہیا فرماتا رہے۔بڑا اور دتھا، بڑا اخلاص کا تعلق تھا اور بے نفس ہو کر خدمت کرنے والے انسان تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔وہ ہمارے لندن میں جو وکیل اشاعت ہیں، نصیر احمد قمر صاحب ،ان کے والد تھے۔ان کا ایک اور بیٹا ہے جوسب سے چھوٹا ہے وہ صدر انجمن احمدیہ میں کارکن ہے مظفر احمد قمر۔اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو بھی صبر عطا فرمائے ، ان کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔دوسرے بھی ہمارے واقف زندگی مبلغ مکرم عبدالرشید رازی صاحب جو 29 ستمبر کو آسٹریلیا میں 76 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ بھی تحریک جدید میں اور آئیوری کوسٹ ، تنزانیہ، بنی اور گھانا میں مبلغ کے طور پر کام کرتے رہے۔بڑے سادہ مزاج آدمی تھے اور تقریباً سال پہلے ہی اپنے بیٹے کے پاس آسٹریلیا جا کر آباد ہونے کا خیال تھا۔ابھی ان کا معاملہ پر اس میں ہی تھا کہ وفات ہوگئی۔ان کو اچانک ایک کینسر ڈائیگنوز (Diagnose) ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے بھی درجات بلند فرمائے اور ان کے بیوی بچوں کو صبر اور حوصلہ دے۔ان کی تدفین سڈنی میں ہی عمل میں آئی ہے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 15 شماره 44 مورخہ 31 اکتوبر تا7 نومبر 2008 صفحہ 5 تا 8)