خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 416
416 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرموده 10 اکتوبر 2008 ہے لباس کے فیشن کو ان لوگوں نے اتنا بیہودہ اور لغو کر دیا ہے خاص طور پر عورتوں کے لباس کو کہ اس کے ذریعہ اپنا نگ لوگوں پر ظاہر کر ناز بنت سمجھا جاتا ہے اور گرمیوں میں تو یہ لباس بالکل ہی نگا ہو جاتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لباس کے یہ دو مقاصد ہیں ان کو پورا کرو۔اور پھر تقویٰ کے لباس کو بہترین قرار دے کر توجہ دلائی، اس طرف توجہ پھیری کہ ظاہری لباس تو ان دو مقاصد کے لئے ہیں۔لیکن تقویٰ سے دور چلے جانے کی وجہ سے یہ مقصد بھی تم پورے نہیں کرتے اس لئے دنیاوی لباسوں کو اس لباس سے مشروط ہونا چاہئے جو خدا تعالیٰ کو پسند ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے۔یہاں لفظ ریش استعمال ہوا ہے۔اس کے معنی ہیں پرندوں کے پر جنہوں نے انہیں ڈھانک کر خوبصورت بنایا ہوتا ہے۔وہی پرندہ جو اپنے اوپر پروں کے ساتھ خوبصورت لگ رہا ہوتا ہے اس کے پر نوچ دیں یا کسی بیماری کی وجہ سے وہ پر جھڑ جائیں تو وہ پرندہ انتہائی کراہت انگیز لگتا ہے۔پھر اس کا مطلب لباس بھی ہے اور خوبصورت لباس ہے۔لیکن بدقسمتی سے آج کل خوبصورت لباس کی تعریف نگا لباس کی جانے لگ گئی ہے اور اس میں مردوں کا زیادہ قصور ہے کہ انہوں نے عورت کو اس کی کھلی چھٹی دی ہوئی ہے اور عورتیں بھی اپنی حیا اور تقدس کو بھول گئی ہیں اور ہماری بعض مسلمان عورتیں بھی اور احمدی بھی اکا دُکا متاثر ہو جاتی ہیں۔پر دے اور حجاب جب اترتے ہیں تو اس کے بعد پھر اگلے قدم ننگے لباسوں میں آ جاتے ہیں۔پس اپنے تقدس کو ہر عورت کو قائم رکھنا چاہئے۔کل ہی مجھ سے ایک نئے احمدی دوست نے سوال کیا کہ اس معاشرے میں جہاں ہم رہ رہے ہیں بہت ساری برائیاں بھی ہیں ننگے لباس بھی ہیں تو ہم کس طرح اپنی بیٹیوں کو معاشرے کے اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔تو میں نے انہیں یہی کہا تھا کہ بچپن سے ہی بچوں میں اپنی ذات کا تقدس پیدا کریں انہیں احساس ہو کہ وہ کون ہیں۔خدا تعالیٰ ان سے کیا چاہتا ہے؟ اور پھر بڑی عمر سے ہی نہیں بلکہ پانچ چھ سال کی عمر سے ہی انہیں لباس کے بارے میں بتائیں کہ تمہارے اردگرد معاشرے میں جو چاہے لباس ہو لیکن تمہارے لباس اس لئے دوسروں سے مختلف ہونے چاہئیں کہ تم احمدی ہو۔اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کو وہی لباس پسند ہے جن سے ننگ ڈھکا ہو۔ان کے اندر کی نیک فطرت کو ابھاریں کہ انہوں نے ہر کام خدا تعالیٰ کی خاطر کرنا ہے۔تو آہستہ آہستہ بڑے ہونے تک ان کے ذہنوں میں یہ بات پختہ اور راسخ ہو جائے گی۔اسی طرح ریش کا مطلب دولت بھی ہے اور زندگی گزارنے کے وسائل بھی ہیں۔یہاں بھی یا درکھنا چاہئے کہ اس کے لئے بھی تقوئی ضروری ہے، زندگی کی سہولیات حاصل کرنے کے لئے کوئی غلط کام نہیں کرنا، غلط ذریعہ سے دولت نہیں مانی۔ناجائز کاروبار نہیں کرنا، حکومت کا ٹیکس چوری نہیں کرنا۔اس طرح کی دولت سے تم اگر چوری کرتے ہو تو ظاہراً تو شاید عارضی طور پر خوبصورت گھر بنا لولیکن تقویٰ سے دُور چلے جاؤ گے۔اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری کمزوریوں کو ڈھانکنے کے لئے اور تمہاری زینت کے لئے جو جائز اسباب تمہارے لئے میسر کئے ہیں۔ان کو