خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 415
415 خطبه جمعه فرموده 10 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم پس آج ہم نے اپنے اعمال پر نظر رکھ کر اور اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے اپنے ساتھ دنیا کے لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگوں کو ز مینی اور سماوی آفات سے بچانا ہے اور اس کے ساتھ دنیا کو آنحضرت اکے جھنڈے تلے لاکر اس دنیا میں بھی تباہ ہونے سے بچانا ہے اور آخرت کی آگ سے بھی بچنے کے راستے دکھانے ہیں۔پس اسی بات پر خوش نہ ہو جائیں کہ ہم نے ایک مسجد بنالی۔مومنین کا ترقی کی طرف اٹھنے والا ہر قدم اسے مزید ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے اسے مزید ترقی کے راستوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔تقویٰ میں مزید ترقی کی طرف سے توجہ دلاتا ہے اور جوں جوں تقوی میں ترقی ہوتی جاتی ہے، ذمہ داری کا احساس بھی بڑھتا چلا جاتا ہے اور نیکیوں کو بجالانے کے لئے نئے سے نئے راستے بھی نظر آنے لگتے ہیں۔پس یہ پہلا قدم تو آپ نے اٹھا لیا کہ ایک مسجد بنائی لیکن اس کا اصل اجرت بھی ہمیں ملے گا جب یہ احساس رہے کہ ہمارا یہ عمل محض اللہ ہے، اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے اور اس کا حق ہم نے ادا کرنا ہے اور جب یہ احساس ہوگا تو ہمارے تقویٰ کے معیار بھی بڑھتے چلے جائیں گے۔ہماری عبادتیں بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں گی۔آنحضرت ﷺ نے جب مسجد بنانے والوں کو یہ خوشخبری دی کہ مسجد بنانے والے کو ایسا ہی گھر جنت میں ملے گا تو ساتھ یہ بھی فرمایا یہ شرط لگائی کہ مسجد اللہ تعالیٰ کے لئے ہو تو اس کا اجر ہے اور جو مسجد اللہ کے لئے ہو اس میں انسان خالص ہو کر خدا تعالیٰ کے لئے عبادت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔مسجد کی تعمیر کر کے یا اس کے لئے کسی قسم کی قربانی کر کے اس میں فخر نہیں پیدا ہو جاتا بلکہ اس کا دل اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی خشیت میں مزید بڑھتا ہے اور وہ یہ دعا کر رہا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی اس حقیر قربانی کو قبول فرمائے۔تقویٰ پر چلتے ہوئے وہ وہی باتیں کرنے کی کوشش کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کی پسندیدہ اور خدا کے بندوں کے لئے آسانی اور خوشی پیدا کرنے والی ہونہ کہ تکلیف میں ڈالنے والی۔پس آج جو آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس انعام پر شکر گزاری کا اظہار کرنا ہے یا کر رہے ہیں تو اس کا بہترین پر طریقہ یہی ہے کہ تقویٰ میں ترقی ہو اور ہماری عبادتیں اور ہمارے سب عمل خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوں اور یہی چیز خدا تعالیٰ کو پسند ہے۔جو آیت میں نے تلاوت کی ہے، اس میں خدا تعالیٰ نے اس بات کی طرف راہنمائی فرمائی ہے کہ انسان کو تقویٰ کو ہر چیز پر مقدم رکھنا چاہئے۔خدا تعالیٰ نے یہاں لباس کی مثال دی ہے کہ لباس کی دو خصوصیات ہیں۔پہلی یہ کہ لباس تمہاری کمزوریوں کو ڈھانکتا ہے۔دوسری بات یہ کہ زینت کے طور پر ہے۔کمزوریوں کے ڈھانکنے میں جسمانی نقائص اور کمزوریاں بھی ہیں، بعض لوگوں کے ایسے لباس ہوتے ہیں جس سے ان کے بعض نقص چھپ جاتے ہیں۔موسموں کی شدت کی وجہ سے جو انسان پر اثرات مرتب ہوتے ہیں ان سے بچاؤ بھی ہے اور پھر خوبصورت لباس اور اچھا لباس انسان کی شخصیت بھی اجاگر کرتا ہے۔لیکن آج کل ان ملکوں میں خاص طور پر اس ملک میں بھی عموما تو سارے یورپ میں ہی