خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 414 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 414

414 خطبہ جمعہ فرمودہ 10اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم ہی ہم پر احسان ہے کہ انہوں نے ہمیں آنحضرت مال اللہ کا پیغام پہنچا کر ہمیں اس خوش قسمت امت میں شامل ہونے کا سامان بہم پہنچایا، جس نے ہماری دنیا بھی سنواری اور اخروی اور دائمی زندگی کے راستے بھی دکھائے۔پس اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ تمام عرب تک آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کا پیغام پہنچانا ہمارا اولین فرض ہے۔لیکن ساتھ ہی ہمیں یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ تمام دنیا کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور اس زمانہ میں یہ عظیم مشن مسیح موعود اور مہدی موعود کا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے دنیا کو اکٹھا کر یں۔پس یہ پیغام پہنچانا ہمارا کام ہے۔جس کو خدا تعالیٰ ہدایت دینا چاہے گا جس کی فطرت نیک ہوگی اس کے آپ ﷺ کی غلامی میں آنے کے سامان اللہ تعالیٰ پیدا فرما دے گا۔پس پیغام پہنچانا اور پھر دعا کرنا یہ ہمارا اہم کام ہے۔کیونکہ دعاؤں کا ہتھیار ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سب سے کارآمد ہتھیار ہے اور یہی ہتھیار آپ کو دیا گیا ہے اس لئے کبھی اپنے علم اور اپنی تبلیغ پر بھی انحصار نہ کریں۔پھل بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی لگتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے دعائیں انتہائی ضروری چیز ہیں اس لئے کبھی دعاؤں کو نہ بھولیں۔اور پھر تیسرا چیلنج ، جب دنیا کی نظر آپ پر پڑے گی تو اپنے اعمال پر بھی ہمیں نظر رکھنی ہوگی کیونکہ جس کو تبلیغ کریں گے وہ ہمارے عمل بھی دیکھتا ہے۔وہ یقین ہمارا اٹھنا بیٹھنا اور رکھ رکھاؤ دیکھیے گا۔وہ ہمارے آپس کے تعلقات کو دیکھے گا۔وہ ہمارے قول و فعل کو دیکھے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” ہماری جماعت کے لوگوں کو نمونہ بن کر دکھانا چاہئے“۔فرمایا ” جو شخص ہماری جماعت میں ہو کر برانمونہ دکھاتا ہے اور عملی یا اعتقادی کمزوری دکھاتا ہے تو وہ ظالم ہے کیونکہ وہ تمام جماعت کو بدنام کرتا ہے اور ہمیں بھی اعتراض کا نشانہ بناتا ہے۔برے نمونے سے اور وں کو نفرت ہوتی ہے اور اچھے نمونے سے لوگوں کو رغبت پیدا ہوتی ہے۔بعض لوگوں کے ہمارے پاس خط آتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ میں اگر چہ آپ کی جماعت میں ابھی داخل نہیں مگر آپ کی جماعت کے بعض لوگوں کے حالات سے البتہ اندازہ لگاتا ہوں کہ اس جماعت کی تعلیم ضرور نیکی پر مشتمل ہے۔إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ (النحل: 129) يقينا الله ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور احسان کرنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بھی انسان کے اعمال کا روز نامچہ بناتا ہے۔پس انسان کو بھی اپنے حالات کا ایک روز نامچہ تیار کرنا چاہئے اور اس میں غور کرنا چاہئے کہ نیکی میں کہاں تک آگے قدم رکھا ہے۔فرمایا کہ انسان اگر خدا کو ماننے والا اور اسی پر کامل ایمان رکھنے والا ہو تو کبھی ضائع نہیں کیا جاتا بلکہ اس ایک کی خاطر لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 455 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوہ)