خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 413
خطبات مسرور جلد ششم 413 خطبہ جمعہ فرموده 10 اکتوبر 2008 پس اب جبکہ ہم نے یہاں اپنی مسجد بنالی ہے جو گو اتنی بڑی نہیں لیکن پھر بھی جیسا کہ میں نے کہا فی الحال یہاں کی ضرورت کے لئے کافی ہے۔اب اس مسجد کے بن جانے کے ساتھ احمد یوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔مسلموں اور غیر مسلموں سب کی توجہ اب اس مسجد کی وجہ سے آپ کی طرف پھرے گی۔بلکہ کل امیر صاحب نے مجھے یہاں چھپنے والا ایک رسالہ دکھایا جس کی بڑی سرکولیشن ہے جس نے مسجد کے حوالے سے ہمارا تعارف شائع کیا ہے۔اس سے جہاں جماعت کا تعارف دوسروں تک پہنچے گا وہاں حاسدوں کے حسد بھی بھڑکیں گے اور دونوں باتوں کے لئے یعنی تعارف کی وجہ سے تبلیغ کے مواقع پیدا ہونے اور اس کے بہترین نتائج ظاہر ہونے کے لئے بھی اور حسد کی وجہ سے دشمنیاں پیدا ہوئی ہیں۔ان دشمنیوں کے پیدا ہونے پر نقصان سے بچنے کے لئے بہترین ذریعہ دعا ہے۔عبادتوں کی طرف متوجہ ہونا ہے۔خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے اس سے تضرع اور عاجزی سے اس کی مدد مانگتا ہے۔دلوں کو کھولنے والا بھی خدا تعالیٰ ہی ہے اور حاسدوں کے حسد سے بچانے والا بھی خدا تعالیٰ ہی ہے۔پس اس مسجد کی تعمیر کے ساتھ آپ کو دو بلکہ تین طرح کے چیلنجوں کا سامنا کرنا ہے۔ایک تو عبادتوں کو پہلے سے بڑھ کر بجالانے کی اور سجانے کی کوشش کرنی ہے اور اس کے لئے خالص ہو کر خدا تعالیٰ کے گھر میں آ کر پانچ وقت اپنی نمازیں ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔جب نمازوں کی طرف بلایا جائے تو اس پر بغیر کسی حیل و حجت کے لبیک کہنا ہے کہ حقیقی فلاح نمازوں سے ہی ملتی ہے نہ کہ دنیاوی دھندوں سے۔پس ان مغربی ملکوں میں رہنے والے عام طور پر اور فرانس کے اس شہر میں یا اس کے قریب رہتے ہوئے خاص طور پر جس کے بارہ میں مشہور ہے کہ دنیاوی رنگینیوں اور چکا چوند کا شہر ہے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے آگے جھکنے والا بنانا یقیناً خدا تعالیٰ کے پیار کو سمیٹنے والا بنائے گا۔پس اس مسجد کی تعمیر کے ساتھ اپنی عبادتوں کے بھی نئے معیار قائم کریں۔دوسرا چیلنج تبلیغ کا ہے جیسا کہ میں پہلے بھی کئی مواقع پر بتا چکا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئی جگہ فرمایا ہے کہ جہاں اسلام کو متعارف کرانا ہو، جہاں ایک مرکز کی طرف لانے کی کوشش کرنی ہو۔وہاں مسجد بنادو، اس سے تعارف پیدا ہوتا ہے اور تبلیغ کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ، ابھی باقاعدہ اس مسجد کا افتتاح نہیں ہوا کہ رسالہ میں جماعت اور مسجد کا تعارف بھی شائع ہو گیا۔پس یہ ابتداء ہے، انشاء اللہ تعالیٰ تبلیغ کے مزید راستے کھلیں گے اور جب یہ راستے کھلیں گے تو پھر لوگوں کی نظریں آپ پر ہوں گی۔پس اس چیلنج کو قبول کرنے کے لئے بھی تیار ہو جائیں۔ویسے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے فرانس کی جماعت کی تبلیغ کی مساعی اچھی ہے، کتنے فیصد لوگ شامل ہیں مجھے نہیں پتہ لیکن بہر حال اچھے نتائج ہوتے ہیں، لیکن بعض طبقوں اور قوموں تک محدود ہیں جس میں عرب مسلمان زیادہ ہیں۔یہ بڑی اچھی بات ہے اور عربوں کا پہلا حق بنتا ہے کہ ان تک آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی آمد کا پیغام پہنچایا جائے۔کیونکہ یہ ان لوگوں کا