خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 412
خطبات مسرور جلد ششم 412 خطبہ جمعہ فرموده 10 اکتوبر 2008 کریں۔مسجد میں آئیں تو صرف اور صرف اس کی طرف توجہ ہو اور پھر یہ کہ جیسا کہ میں نے کہا اپنی عبادتوں اور مسجد کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔اور وہ حق کس طرح ادا ہو گا اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت اور قرب حاصل کرے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57 ) ، یعنی ہم نے جنوں اور انسانوں کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ”جواس اصل غرض کو مدنظر نہیں رکھتا اور رات دن دنیا کے حصول کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ فلاں زمین خریدلوں، فلاں مکان بنا لوں ،فلاں جائیداد پر قبضہ ہو جاوے تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کچھ دن مہلت دے کر واپس بلالے اور کیا سلوک کیا جاوے“۔آپ فرماتے ہیں کہ انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہئے جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ ایک قابل قدر شے ہو جاوے گا“۔فرمایا: ” پس انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور تعلق بنائے رکھے۔سب عبادتوں کا مرکز دل ہے۔اگر عبادت تو بجالاتا ہے مگر دل خدا کی طرف رجوع نہیں ہے تو عبادت کیا کام آوے گی“۔فرمایا: ” اب دیکھو ہزاروں مساجد ہیں مگر سوائے اس کے کہ ان میں رسمی عبادت ہو اور کیا ہے؟“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 222۔جدید ایڈیشن۔مطبوعہ ربوہ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد اور تنبیہ دل کو ہلا دیتا ہے کہ آپ ہم سے کیا تو قعات رکھتے ہیں۔ہماری اصلاح کے لئے اور خدا تعالیٰ سے ہمارا تعلق جوڑنے کے لئے کس درد سے ہمیں سمجھاتے ہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل قدرشے بنانے کے لئے آپ میں کس قدر بے چینی پائی جاتی ہے۔پس ایسی عبادتوں کا حصول ہمارا مطمح نظر ہونا چاہئے اور اس کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے تبھی ہم اپنی عبادتوں کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والے بھی بن سکتے ہیں اور مساجد کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والے بھی بن سکتے ہیں۔ورنہ مسجدیں تو دوسرے بھی بنا رہے ہیں، بعض مسجد میں خوبصورتی کے لحاظ سے اتنی خوبصورت ہیں کہ ہماری مساجد ان کا مقابلہ نہیں کر سکتیں لیکن کیونکہ وہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے باہر رہ کر بنائی گئی ہیں اس لئے ظاہری خوبصورتی تو ان میں بیشک ہے لیکن جو اصل خوبصورتی جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اشارہ فرمایا ہے ان میں پیدا نہیں ہوسکتی کیونکہ مسجد بنانے والوں نے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے زمانے کے امام کو نہ صرف مانا نہیں بلکہ اس کی مخالفت میں بھی بڑھ گئے۔اُس صحیح و مہدی کو نہیں مانا جس کے آنے کی خبر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے دی تھی۔