خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 411 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 411

411 خطبہ جمعہ فرموده 10 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم تھے ایک جلسہ پر یہاں تشریف لائے۔میں یہیں تھا تو بڑے ادب احترام سے سٹیج پر بھی جوتے اتار کر آئے ، بڑے احترام سے مجھے ملے۔تو اللہ تعالیٰ نے ان کا دل نرم کیا اور وہی شخص جو ہمیں نمازوں سے روکتے ہوئے ہمارے اُس عارضی ہال کو گرانے کے درپے تھا ہمیں با قاعدہ مسجد کی تعمیر کے لئے نہ صرف اجازت دینے کے لئے تیار ہو گیا بلکہ راستے کی روکوں کو دور کرنے کے لئے خود ہمارا مددگار بن گیا اور ابھی تک یہ ہماری مدد کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے اور ان کا سینہ مزید کھولے کہ وہ احمدیت کے پیغام کو اسلام کے پیغام کو بھی سمجھنے والے بنیں۔پس یہ جو اللہ تعالیٰ جماعت پر فضل فرماتا ہے اور اپنے بیشمار انعامات سے نوازتا ہے اور ہم جو مانگ رہے ہوتے ہیں اس سے بہت بڑھ کر دیتا ہے، يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ کے الفاظ کہہ کر جب تسلی دیتا ہے تو صرف اپنوں کو ہی مددگار نہیں بناتا بلکہ غیروں کے دلوں میں بھی ڈالتا ہے کہ وہ اس کے بندوں کے معین و مددگار بن جائیں۔یہ باتیں ہمیں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بنانے والی ہونی چاہئیں اور شکر گزاری کا اظہار ہم کس طرح کر سکتے ہیں؟ اس کا طریق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ ہو۔مسجد کی زینت اور خوبصورتی کا خیال پہلے سے بڑھ کر رکھنے والے ہوں تقویٰ میں ترقی کرنے والے ہوں کیونکہ مساجد کی تعمیر کا سب سے بڑا مقصد تو تقویٰ کا قیام ہی ہے۔مسجد ہمیں جہاں ایک خدا کے حضور جھکنے والا بنانے والی ہوتی ہے اور بنانے والی ہونی چاہئے ، وہاں خدا تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والی بھی ہونی چاہئے۔پس یہ ایک بہت بڑا مقصد ہے جو ہر احمدی کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ شکر گزاری تبھی ممکن ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت پہلے سے بڑھ کر کرنے والے ہوں گے۔اس کے گھر میں جب جائیں تو تمام دنیاوی سوچیں اور خیالات باہر رکھ کر جانے کی کوشش کریں۔کیونکہ یہ خدا کا گھر ہے اور جب ہم اس کے گھر اس لئے جا رہے ہیں کہ وہی ایک خدا ہے جو تمام جہانوں کا مالک ہے اور خالق ہے ، وہ رب العالمین ہے۔ہماری زندگی ، ہمارے پیاروں کی زندگی عطا کرنے والا وہی ہے ، ہماری ضروریات زندگی کو پورا کرنے والا وہی ہے تو پھر اس کے حضور حاضر ہوتے ہوئے کسی دوسری چیز کا ہمیں خیال نہیں آئے گا۔جب ہماری یہ سوچ ہو گی ، جب تک ہمارے اندر یہ سوچ قائم رہے گی ہر قسم کے مخفی شرکوں سے بھی اتنے عرصہ کے لئے ہم بچے رہیں گے۔آج کل دنیا کے دھندے اور فکر میں انسان کی سوچیں اپنی طرف مبذول کرا لیتی ہیں اور نماز پڑھتے پڑھتے بھی سوچیں اس طرف نہیں ہوتیں اور اپنی سوچوں میں غائب انسان الفاظ تو دوہرارہا ہوتا ہے لیکن اس کو سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ کیا کر رہا ہے۔سلام پھیرتا ہے اور نماز سے فارغ ہو جاتا ہے۔اس زمانہ کے امام کو مان کر جب ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تو پہلی بات تو یہ کہ جمعہ کے جمعہ نہیں بلکہ سوائے اشد مجبوری کے نماز باجماعت ادا کرنے کی کوشش کریں۔خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کی کوشش