خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 408 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 408

408 خطبه جمعه فرموده 3 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم اب ( حضرت خلیفہ ثانی فرماتے ہیں کہ دیکھو کس طرح ایک شخص کو ایک ایک قدم پر خدا تعالیٰ روکتا اور اس کی تدبیروں کو ناکام بنا تا رہا۔پہلے تو وہ قادیان آتا ہے، مگر میں قادیان میں نہیں بلکہ پھیر و یچی ہوں۔وہ پھر پھیر و پیچی پہنچتا ہے تو وہاں بھی میں اسے نہیں ملتا اور اگر ملتا ہوں تو ایسی حالت میں کہ میرے ساتھ ایک اور شخص ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں اتفاقاً بندوق ہے اور اس کے دل میں خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ اس وقت حملہ کرنا درست نہیں۔پھر وہ وہاں سے چلا جاتا ہے اور ادھر اُدھر پھر کر گھر پہنچتا ہے اور بیوی کو مار کر پھانسی پر لٹک جاتا ہے۔( تو اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے )۔( سیر روحانی (3) - انوار العلوم جلد 16 صفحہ 384۔مطبوعہ ربوہ) ہمارے شروع کے مبلغین میں سے حضرت مولانا شیخ عبدالواحد صاحب کا بھی ایک واقعہ ہے،۔جو نجی میں مبلغ تھے۔1968ء میں ان کا نجی کے شہر با (Ba) میں احمدیہ مشن کھولنے کا ارادہ ہوا اور مکان خرید لیا گیا۔وہاں کہتے ہیں کہ ہماری سخت مخالفت شروع ہوگئی اور انہوں نے بڑا زور لگایا کہ احمدیت کی تبلیغ یا اسلام کی تبلیغ کا یہ مشن یہاں کا میاب نہیں ہونے دیں گے اور ابو بکر نامی ایک شخص تھا جو ان کا سرغنہ تھا۔تو اس نے بھی شہر میں اعلان کیا کہ اگر احمد یوں نے یہاں مشن خریدا تو جلا دیں گے۔کہتے ہیں ہم نے سارے حفاظتی انتظامات کئے۔پولیس سٹیشن اس جگہ کے ساتھ تھا جہاں ہم نے آخر گھر خرید لیا۔پولیس کو بھی انتظامات کے لئے کہہ دیا۔اس نے کہا ہم حفاظت کا انتظام کریں گے لیکن پھر بھی کہتے ہیں کسی نے مشن کے ایک حصے میں رات کو تیل ڈال کر آگ لگا دی اور باوجود ان کے سارے اقدامات کے آگ لگانے والا فوراً بھاگ گیا۔اس کو پتہ تھا کہ اب یہ آگ بجھ نہیں سکتی لیکن وہ آگ اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی نقصان کے بجھا دی اور جب یہ لوگ واپس آئے اور دیکھا، یا جب ان کو پتہ لگا تو چند ایک لکڑی کے پھٹے جلے ہوئے تھے جن کی مرمت ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو محفوظ رکھا۔اس وقت کہتے ہیں کہ ہمارے ایک مبلغ مولانا نور الحق صاحب انور نے اس جلے ہوئے کمرے میں جس کا ہلکا سا حصہ جلا تھا بڑے دکھ بھرے انداز میں آہ بھر کر کہا تھا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے دین اسلام کی اشاعت کے اس مرکز کو جلانے کی کوشش کی ہے خدا اس کے اپنے گھر کو آگ لگا کر راکھ کر دے۔چنانچہ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ مخالفین کا جوسر غنہ تھا ابو بکر کو یا اس کے گھر کو آگ لگ گئی اور باوجود بجھانے کی کوشش کے وہ نہیں بجھی اور سارا گھر اور جو اس کی رہائش تھی سب خاک ہو گیا۔(ماخوذ از روح پرور یا دیں۔از مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب۔صفحہ 94-95) تو یہ نشانات ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کو اُن کی خاطر دکھاتا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صفت مهیمن کے تحت خوف سے امن دیتا ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے بندوں کے معاملات پر نگران اور محافظ ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جو اس کی طرف آئے وہ اسے پناہ دیتا ہے۔پس ہمیں ہر وقت اس کی پناہ تلاش کرنی چاہئے۔