خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 407 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 407

407 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرموده 3 اکتوبر 2008 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعات بیان کرتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ بچپن سے ہی حفاظت فرماتا تھا۔کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تیرنا اور سواری ( تو ) خوب جانتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ بچپن میں تیرتے ہوئے میں ڈوبنے بھی لگا تھا تو ایک بڑھے شخص نے مجھے نکالا تھا اور اس شخص کو نہ میں نے وہاں اس سے پہلے کبھی دیکھا نہ اس کے بعد کبھی دیکھا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے حفاظت کے لئے ایک فرشتہ کی صورت میں اس شخص کو بھیجا تھا۔نیز فرماتے تھے کہ میں ایک دفعہ ایک گھوڑے پر سوار ہوا اس نے شوخی کی اور بے قابو ہو گیا۔تیز گھوڑا تھا میں نے بہت روکنا چاہا مگر وہ شرارت پر آمادہ تھا، نہ رکا۔چنانچہ وہ اپنے پورے زور سے ایک درخت یا ایک دیوار کی طرف بھاگا اور پھر اس زور کے ساتھ اس سے ٹکرایا کہ اس کا سر پھٹ گیا اور وہ وہیں مر گیا۔مگر مجھے اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت صاحب بہت نصیحت کیا کرتے تھے کہ سرکش اور شریر گھوڑے پر ہر گز نہیں چڑھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کا تو ان سے خاص سلوک تھا، بچایا۔اس کے بعد سے نصیحت کیا کرتے تھے اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اُس گھوڑے کا مجھے مارنے کا ارادہ تھا مگر میں ایک طرف گر کر بچ گیا اور وہ مر گیا۔ما خود از سیرت المہدی۔حصہ اول روایت نمبر 188 صفحہ 199-198 مطبوعہ ربوہ) حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ابھی ایک کیس میں ایک ہندوستانی عیسائی کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے۔اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے غصے میں آ کر اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔جب مقدمہ ہوا تو مجسٹریٹ کے سامنے اس نے بیان دیتے ہوئے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی تقریر میں سن سن کر میرے دل میں احمدیوں کے متعلق یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ ہر مذہب کے دشمن ہیں۔عیسائیت کے وہ دشمن ہیں، ہندو مذہب کے وہ دشمن ہیں ہسکھوں کے وہ دشمن ہیں ، مسلمانوں کے وہ دشمن ہیں اور میں نے نیت کر لی کہ جماعت احمدیہ کے امام کو قتل کر دوں گا۔میں اس غرض کے لئے قادیان گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ پھیر و پیچی گئے ہوئے ہیں۔پھیر و نیچی قادیان کے ساتھ ایک گاؤں تھا، بلکہ اب بھی ہے۔وہ بھی ساری احمدیوں کی آبادی تھی چنانچہ میں وہاں چلا گیا۔پستول میں نے فلاں جگہ سے لے لیا تھا اور ارادہ تھا کہ وہاں پہنچ کر ان پر حملہ کر دوں گا۔چنانچہ پھیرو پیچی پہنچ کر میں ان سے ملنے کے لئے گیا تو میری نظر ایک شخص پر پڑ گئی جو ان کے ساتھ تھا اور وہ بندوق صاف کر رہا تھا۔حضرت خلیفہ ثانی فرماتے ہیں کہ ی خان صاحب مرحوم تھے جو میرے ساتھ تھے اور بندوق صاف کر رہے تھے۔(اب مجرم کہتا ہے ) اور میں نے سمجھا کہ اس وقت حملہ کرنا ٹھیک نہیں کسی اور وقت حملہ کروں گا۔پھر میں دوسری جگہ چلا گیا اور وہاں سے خیال آیا کہ گھر ہو آؤں۔جب گھر پہنچا تو بیوی کے متعلق بعض باتیں سن کر برداشت نہ کر سکا اور پستول سے ہلاک کر دیا۔( مجرم کہہ رہا ہے ) یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا جو ہو گیا ورنہ میرا ارادہ تو کسی اور کوقتل کرنے کا تھا۔