خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 402
402 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 3 اکتوبر 2008 آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان اس لئے تھا تا کہ آنحضرت ﷺ اور اسلام کی سچائی ظاہر ہو۔اس مضمون کے حوالے سے بھی جو میں بیان کر رہا ہوں آنحضرت ﷺ کے بارہ میں آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” یاد رہے کہ پانچ موقعے آنحضرت ﷺ کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے، جن میں جان کا بچانا محالات سے معلوم ہوتا تھا۔اگر آنجناب در حقیقت خدا کے سچے رسول نہ ہوتے تو ضرور ہلاک کئے جاتے۔ایک تو وہ موقعہ تھا جب کفار قریش نے آنحضرت ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیا اور قسمیں کھالی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے۔دوسرا موقع وہ تھا کہ جب کافر لوگ اس غار پر معہ ایک گروہ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت وہ یہ مع حضرت ابو بکر کے چھپے ہوئے تھے۔تیسرا وہ نازک موقعہ تھا جب کہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت وہ اکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا اور آپ پر بہت سی تلوار میں چلائیں ، مگر کوئی کارگر نہ ہوئی۔یہ ایک معجزہ تھا۔چوتھا وہ موقعہ تھا جبکہ ایک یہودیہ نے آنجناب کو گوشت میں زہر دے دی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اس کا دیا گیا تھا۔(5) پانچواں وہ نہایت خطرناک موقعہ تھا جب کہ خسرو پرویز شاہ فارس نے آنحضرت ﷺ کے قتل کے لئے مصم ارادہ کیا تھا اور گرفتار کرنے کے لئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے۔تو آپ فرماتے ہیں کہ ” پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ان تمام پُر خطر موقعوں سے نجات پانا اور اُن تمام دشمنوں پر آخر کا ر غالب ہو جانا ایک بڑی زبر دست دلیل اس بات پر ہے کہ در حقیقت آپ صادق تھے اور خدا آپ کے ساتھ تھا۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 حاشیہ صفحہ 263-264) پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ” یہ عجیب بات ہے کہ میرے لئے بھی پانچ موقعے ایسے پیش آئے تھے جن میں عزت اور جان نہایت خطرے میں پڑ گئی تھی۔(1) اول وہ موقع جبکہ میرے پر ڈاکٹر مارٹن کلارک نے خون کا مقدمہ کیا تھا۔(2) دوسرے وہ موقع جبکہ پولیس نے ایک فوجداری مقدمہ مسٹرڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی کچہری میں میرے پر چلایا تھا۔(3) تیسرے وہ فوجداری مقدمہ جو ایک شخص کرم الدین نام نے بمقام جہلم میرے پر کیا تھا۔(4) وہ فوجداری مقدمہ جو اسی کرم دین نے گورداسپور میں میرے پر کیا تھا۔(5) پانچویں جب لیکھرام کے مارے جانے کے وقت میرے گھر کی تلاشی کی گئی اور دشمنوں نے ناخنوں تک زورلگا یا تھا تا میں قاتل قرار دیا جاؤں مگر وہ تمام مقدمات میں نامرادر ہے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 حاشیہ صفحہ 263) ساروں کی تفصیل بیان کرنا تو ممکن نہیں ، ڈاکٹر مارٹن کلارک کا جو مقدمہ تھا ایک ایسا جھوٹا مقدمہ تھا جس میں ایک لڑکے سے جس کا نہ کوئی دین تھا نہ ایمان تھا اور مہا کا جھوٹا نکما جوان تھا یہ بیان دلوایا گیا کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے یہ کہا ہے کہ جا کر ڈا کٹر مارٹن کلارک کو قتل کر دو اور یہ لڑکا اپنے مذہب بدلتا رہتا تھا۔