خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 393 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 393

393 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 ستمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم جمعہ کے دن دعاؤں کی قبولیت کی خاص گھڑی یا عرصہ کا ذکر کیا تھا جس کا احادیث میں ذکر آتا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اس اہمیت کے پیش نظر جمعہ کی جو اہمیت ہے، اکثر نے اس رمضان کے گزشتہ جمعوں میں خاص طور پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہوگی کہ جمعہ اور روزے جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کے قرب اور دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔آج ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے رمضان کے آخری عشرے کا پانچواں دن گزار رہے ہیں اور اس رمضان کا یہ آخری جمعہ ہے، جس کو بعض دوسرے مسلمان گروہوں میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے کہ یہ آخری جمعہ ہے اس لئے اس میں اپنے تمام گناہ بخشوانے کے لئے ضرور شامل ہو۔جب سلیٹ صاف ہو جائے تو پھر نئے سرے سے جو چاہو کرو۔بلکہ بعض کئی سال بعد ایک جمعہ پڑھنے کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔اُن لوگوں میں یہ تصور اس لئے ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہ مان کر اللہ تعالیٰ کے احکامات کو صحیح طور پر سمجھنے سے عاری ہیں۔پس ہم پر یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اصل حکم کو سمجھتے ہوئے ہر جمعہ کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہیں ، چاہے وہ رمضان کا جمعہ ہے یا اس کے علاوہ۔لیکن اگر رمضان کے جمعوں کی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت ہے تو اس لئے کہ جیسا کہ میں نے ابھی کہا کہ ایک طرف تو ہمیں یہ خوشخبری مل رہی ہے کہ جمعہ کے دن ایک وقت ایسا آتا ہے جب خدا تعالیٰ بندے کی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے اور رمضان کے روزوں کی وجہ سے یہ خوشخبری مل رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے قریب ہو کر اس کی دعائیں سنتا ہے اور رمضان میں تہجد اور نوافل کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی گئی ہے اور ہر شخص عموماً توجہ دیتا ہے۔پس رمضان کے جمعوں کی یہ اہمیت ہوگئی کہ اس میں دن کو بھی خدا تعالیٰ خاص فضل فرماتے ہوئے بندے کی دعائیں سن رہا ہے اور رات کو بھی خاص فضل فرماتے ہوئے اپنے بندے کی دعائیں سن رہا ہے۔پس ان دنوں اور راتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے لئے اللہ تعالیٰ کی دائی رحمت مانگنے، ہمیشہ اس کی مغفرت کی چادر میں ڈھکے رہنے ، ہمیشہ اس دنیا کی جہنم سے بھی اور اگلے جہان کی جہنم سے بھی بچے رہنے کی دعا مانگنی چاہئے تا کہ صرف رمضان اور رمضان کے جمعے یا صرف آخری جمعہ ہمیں عبادتوں میں توجہ دلانے والا نہ ہو بلکہ سال کا ہر جمعہ اور ہر دن ہمیں خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی طرف توجہ دلانے والا ہو۔پس ہر احمدی کو اس بات کو پلے باندھنے کی ضرورت ہے اور باندھنی چاہئے کہ صرف رمضان کا جمعہ نہیں یا آخری جمعہ نہیں جس کے لئے بعض لوگوں میں اہتمام کیا جاتا ہے کہ جس طرح بھی ہوضرور مسجد جانا ہے یا بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ عید ضر ور عید گاہ یا مسجد میں جا کر پڑھنی ہے۔جبکہ عید کی اہمیت کے بارے میں قرآن کریم میں براہ راست کوئی حکم نہیں ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ عید کی اتنی اہمیت ہے کہ آنحضرت نے اس میں شامل ہونے کی خاص تاکید فرمائی ہے اور ان عورتوں کو بھی عید پر جانے کا حکم ہے جنہوں نے نماز نہیں پڑھنی لیکن جمعہ کے بارے میں کوئی ایسا حکم نہیں ہے کہ ضرور شامل ہونا ہے۔لیکن ساتھ ہی اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ عید پر جانے کا حکم صرف اس لئے نہیں کہ سال کے بعد دو رکعت پڑھ لینے سے یا چند