خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 391 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 391

خطبات مسرور جلد ششم 391 خطبه جمعه فرموده 19 ستمبر 2008 نے صرف ڈاکٹر صاحب کے افسوس کا ذکر کیا، حالانکہ اگر میرے سے افسوس کرنا ہی ہے تو پھر تو دونوں شہداء کا افسوس کرنا چاہئے تھا۔سیٹھ صاحب سے بھی میری ذاتی واقفیت تھی ، بڑے خاموش طبع اور کام کرنے والے، دین کا جذ بہ و شوق رکھنے والے کا رکن تھے۔میں جب بھی نوابشاہ گیا ہوں، کئی مرتبہ گیا ہوں، خاص طور پر ملنے کے لئے آتے تھے، میٹنگ کرتے تھے ، جماعتی کاموں میں مشورہ لیتے تھے اور پھر ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔تو بہر حال میں اس بارے میں تھوڑی سی وضاحت کرنا چاہتا تھا۔آج دوسرا جنازہ غائب جوا بھی ادا ہو گا وہ ایک ہماری سیرئین (Syrian) بہن مروہ الغالول صاحبہ ہیں۔یہ پیدل جارہی تھیں ان کو پیچھے سے کسی ٹرک یا گاڑی نے ٹکر ماری اور کچھ عرصہ یہ ہسپتال میں رہیں اور پھر ان کی وفات ہو گئی۔24 سال ان کی عمر تھی اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ بھی ہماری عربی ویب سائیٹ أَجْوِبَة عَنِ الْإِيْمَانِ میں بڑی محنت سے کام کر رہی تھیں اور ہر مشکل کام انہوں نے اس میں کیا۔پھر اسی طرح الاسلام ویب سائیٹ پر زکوۃ کے موضوع پر انگریزی میں لکھی گئی ایک کتاب کا انہوں نے عربی میں ترجمہ بھی کیا ہے۔اس ترجمے کی تکمیل کے بعد دراصل یہ اس کو کتابی شکل دینے کے لئے پریس میں جا رہی تھیں ، تو حادثے کا شکار ہو گئیں۔بہت نیک خاتون تھیں۔تقومی شعار تھیں، خدمت کا جذبہ رکھنے والی تھیں۔اکثر کہتی تھیں کہ مجھے دین کا کام ملتا چلا جائے۔یہاں ان کے منگیتر محمد ملص صاحب ہیں جو ایم ٹی اے العربیہ میں کام کر رہے ہیں۔عنقریب ان کی شادی ہوئی تھی۔بہر حال جو اللہ کی تقدیر۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک کرے اور ان کے درجات بلند فرمائے اور پیچھے رہنے والوں کوصبر اور حوصلہ دے۔ایک تیسرا جنازہ غائب ہوگا یہ بھی سیر ئین (Syrian) ہیں سامی قزق صاحب۔ان کی چند روز قبل وفات ہوئی ہے۔یہ بھی فلسطین کے ایک مخلص احمدی خضر قزق صاحب کے بیٹے تھے اور نو جوانی میں ہی یہ بڑا جذ بہ رکھنے والے انسان تھے۔1996ء میں برطانیہ میں جلسہ میں شمولیت کے لئے آئے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی اور حضور رحمہ اللہ سے جو شفقت کا سلوک دیکھا تو اس کے بعد ایمان میں یہ اور بھی بڑھ گئے اور واپس جا کر اپنا ایک مکان تھا جو جماعتی ضروریات کے لئے انہوں نے بغیر کرایہ کے جماعت کو دے دیا اور کہا کہ میں جماعت کے لئے دے رہا ہوں اس لئے کوئی پیسہ وصول نہیں کروں گا۔جب یہ جلسہ پر آئے تھے تو کہتے ہیں اب جلسہ پر آ کے مجھے پتہ لگا کہ جماعت احمدیہ کیا چیز ہے۔بہت نیک طبع ملنسار انسان تھے۔غریبوں کی مدد کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی اولاد کو بھی احمدیت کے زیور سے آراستہ کرے۔ان کو توفیق دے کہ وہ بھی جماعت میں شامل ہوں۔الفضل انٹر نیشنل جلد 15 شمارہ 41 مورخہ 10 اکتوبر 2008 ء تا16اکتوبر 2008 صفحہ 5 تا8 )