خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 390 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 390

خطبات مسرور جلد ششم 390 خطبه جمعه فرموده 19 ستمبر 2008 تھے۔یہ وعدہ ہر اس شخص سے ہے جو خدا کے آگے جھکنے والا ہے۔اپنے اعمال کی حفاظت کرنے والا ہے ، اس سے یہ وعدہ ہے۔جو احکام شریعت اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں ان پر عمل کرنے والا ہے اس سے یہ وعدہ ہے۔تو رمضان سے ہم میں سے ہر ایک کو اس طرح گزرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس طرح اللہ اور رسول مہر نے گزرنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں آخری عشرہ میں بھی یہ برکات سمیٹتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا اور اس کی جنت میں داخل ہونے والا بنائے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آج پھر جمعہ کے بعد میں جنازہ ہائے غائب پڑھاؤں گا۔ایک تو افسوسناک اطلاع یہ ہے، جیسا کہ میں نے پچھلی دفعہ درخواست دعا کی تھی کہ ہمارے ایک بھائی شیخ سعید احمد صاحب جن کو اپنی دکان پر بیٹھے ہوئے احمدیت کی دشمنی کی وجہ سے گولیاں ماری گئی تھیں، وہ ہسپتال میں کافی زخمی حالت میں تھے۔وہ 12 دن ہسپتال میں رہنے کے بعد آخر پھر جانبر نہ ہو سکے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔اور انہوں نے بھی شہادت کا رتبہ پایا۔اس شہید نے بھی نوجوانی کی عمر میں اپنا خون پیش کیا۔ان کی 42 سال عمر تھی اور ان کی شادی گزشتہ سال ہی ہوئی تھی اور اس حملے کے دوران جب یہ ہسپتال میں تھے، اس عرصے میں ہی ان کے ہاں پہلے بیٹے کی ولادت بھی ہوئی۔یہ تھوڑی دیر کے لئے ہوش میں آئے تھے تو ان کو بتایا گیا کہ آپ کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی ہے تو وہ کچھ اظہار نہیں کر سکتے تھے لیکن ان کی آنکھوں میں ذرا نمی سی آگئی۔اس خاندان میں جس کے یہ نو جوان شیخ سعید صاحب ہیں پہلے بھی تین شہادتیں ہو چکی ہیں۔ان کے والد شیخ بشیر صاحب کو زہر دے کر احمدیت کی وجہ سے مارا گیا ، شہید کیا گیا۔پھر ایک بھائی شیخ محمد رفیق صاحب اور ان کے ماموں پروفیسر ڈاکٹر شیخ مبشر احمد صاحب کو فائرنگ کر کے شہید کیا گیا تھا۔شیخ مبشر احمد صاحب کو تو اس سال کے شروع میں شہید کیا گیا۔شیخ سعید صاحب بھی بڑے خاموش طبع انسان تھے، ہمیشہ ان کے چہرے پر مسکراہٹ رہتی تھی ، انتہائی مخلص خادم دین اور دعوت الی اللہ کا بہت شوق رکھتے تھے۔1990ء میں مولویوں نے ان کے خلاف فوج کو شکایت کی جس پر انہیں گرفتار کیا گیا اور پھر ضمانت پر رہائی ہوئی۔جیسا کہ میں نے بتایا، ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ اور ایک بیٹا ہیں اور والدہ ہیں۔ان کی عمر 72 سال ہے۔ان کے لئے بھی بڑھاپے میں یہ صدمہ بڑا بھاری ہے۔ان سب کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔گزشتہ جمعہ کو جب میں نے دو شہداء کا ذکر کیا تھا تو ڈاکٹر منان صدیقی صاحب کا ذکر ان کی علاقہ میں واقفیت اور بعض کا موں کی وجہ سے تھا اور دوسرے ضلع میر پور خاص بھی بہت بڑا ضلع ہے جہاں جماعت بھی بڑی ہے اس کے مقابلے میں نواب شاہ کا ضلع چھوٹا تھا۔یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کس سے کیا سلوک کرنا ہے، شہادت کا درجہ تو بہر حال دونوں نے لیا۔گزشتہ دنوں مجھے بعض افسوس کے خط آ رہے تھے تو ان میں سے ایک اچھلے بھلے پڑھے لکھے