خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 388
خطبات مسرور جلد ششم 388 خطبه جمعه فرموده 19 ستمبر 2008 پس اس ماہ میں جب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش پہلے سے بہت بڑھ کر اس کے بندوں پر نازل ہو رہی ہے ہمیں چاہئے اس سے فیض پانے کی حتی المقدور کوشش کریں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو سامنے رکھیں کہ وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحاً فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللهِ مَتَابًا (الفرقان : 72) اور جو کوئی تو بہ کرے اور نیک اعمال بجالائے تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف حقیقی تو بہ کرتے ہوئے رجوع کرتا ہے۔پس حقیقی تو بہ کے ساتھ اعمال صالحہ کا بجالا نا بھی مشروط ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا۔پس جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ درمیانی عشرہ کو بخشش کا عشرہ بنایا ہے تو یہ اس وقت اثر دکھائے گا جب ہم اپنے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کرنے کی کوشش کریں گے۔پس استغفار اور نیک اعمال جب ہمیں رمضان کے آخری عشرے میں داخل کریں گے تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے مطابق آگ سے آزاد کرانے کا عشرہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ (الانفال :34) اللہ ایسا نہیں ہے کہ انہیں عذاب دے جبکہ وہ بخشش کے طالب ہوں۔اللہ تعالیٰ تو مختلف ذریعوں سے ہمیں سمجھاتا رہتا ہے۔پرانے لوگوں کے واقعات بیان کر کے، انبیاء کے واقعات بیان کر کے، انبیاء کے ذریعہ نصائح فرما کر کہ کس کس طرح تم میری بخشش طلب کر سکتے ہو اور کس طرح میں پہلی قوموں سے سلوک کرتا رہا ہوں اور اب بھی کروں گا۔ظاہر ہے جب انسان ایک خاص توجہ کے ساتھ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہو ، اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کر رہا ہو، نوافل سے بھی انہیں سجا رہا ہو، استغفار بھی کر رہا ہو، اور دوسرے نیک اعمال بجالانے کی بھی کوشش کر رہا ہو یہاں تک کہ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ اگر اس سے کوئی جھگڑے، اُسے برا بھلا کہے تو وہ بالکل جواب نہ دے اور یہ کہہ کے چپ ہو جائے کہ میں روزہ دار ہوں، میں تو اس ٹریننگ میں سے گزر رہا ہوں اور میری یہ کوشش ہے کہ خدا تعالیٰ کے احکامات کو اپنی زندگی کا حصہ بناؤں۔تو لازماً ایسا شخص پھر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر لے وہ آگ سے یقیناً نجات پا جاتا ہے اور اس کی جنت میں داخل ہوتا ہے۔جیسا کہ اس حدیث کے شروع میں جس کا میں نے حوالہ دیا تھا اس کی تفصیل میں یہ بھی لکھا ہے کہ جو شخص کسی بھی اچھی خصلت کو اس مہینہ میں اپناتا ہے یعنی کوئی بھی اچھا فعل کرتا ہے، کام کرتا ہے، نیکی کو اپنا تا ہے وہ اس شخص کی طرح ہو جاتا ہے جو جملہ فرائض ادا کر چکا ہو، جتنے اس کے ذمہ فرض ہیں اس نے ادا کر دیئے ہوں۔اور جس نے ایک فریضہ اس مہینے میں ادا کیا وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے ستر فرائض رمضان کے علاوہ ادا کئے اور رمضان کا مہینہ صبر کرنے کا مہینہ ہے اور صبر کا اجر جنت ہے۔یہ مؤاخات اور اخوت کا مہینہ ہے یعنی دوسرے کے غم میں شریک ہونا، دوسروں سے نرمی سے پیش آنا ، دوسروں کو معاف کرنا۔آپس میں محبت، پیار اور بھائی چارے کو قائم کرنا اور یہ سب باتیں پھر حقوق العباد اور اعمال صالحہ کی طرف لے جانے والی ہیں۔بلکہ یہ ان کی وضاحت ہی ہیں۔