خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 386
خطبات مسرور جلد ششم 386 خطبه جمعه فرموده 19 ستمبر 2008 خالص توبہ کے لئے کیا کچھ کرنا ضروری ہے؟ اس کے لئے تین باتوں کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔پہلی بات یہ کہ ہر برائی کا تصور اور اس کی خواہش سب سے پہلے انسان کے دماغ میں پیدا ہوتی ہے۔پس جب تک اپنے ذہن کو پاک رکھنے کی کوشش نہیں ہوگی ، اس وقت تک تو بہ خالص نہیں ہو سکتی۔منہ سے اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّي مِنْ كُلَّ ذَنْبِ وَاتُوْبُ إِلَيْهِ کچھ فائدہ نہیں دیتا جب تک ذہن بھی اس کے ساتھ نہ چل رہا ہو۔اور پھر دوسری چیز یہ کہ اگر کوئی برائی یا بدی ہو ہی گئی ہے یا ذہن پہ خیال غالب آ گیا ہے، نکل نہیں رہا تو اس کو نکالنے کی کوشش کے ساتھ اس پر ندامت اور پریشانی انسان کو ہونی چاہئے اور گناہوں میں صرف بڑے گناہ نہیں ہیں۔ہر قسم کی برائی، دوسروں کے حقوق کی تلفی کسی کو بُرے الفاظ کہنا یہ سب برائیاں ہیں اور توبہ کی قبولیت سے دور لے جانے والی ہیں۔کئی لوگ مقدموں میں دوسروں کے حق مارنے کی کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ سگے بھائی ایک دوسرے کے حقوق مارنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔میاں بیوی ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔تو اس قسم کی حرکتیں کر کے پھر اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید رکھنا اور سمجھنا کہ ہم تو بہ کر رہے ہیں ، یہ بالکل غلط خیال ہے۔انسان کی خام خیالی ہے۔سچی اور خالص تو بہ اس وقت کہلائے گی جب اگر کوئی چھوٹی سی بھی غلطی ہو جاتی ہے تو اس پر ندامت اور پریشانی کی انتہا ہو جائے۔اور پھر تیسری بات، تو بہ کرنے والے کا ارادہ پکا اور مصم ہو کہ میں نے ہر قسم کی برائیوں کو چھوڑنا ہے۔اس استغفار کے ساتھ اگر صرف یہی خیال ہو کہ یہ رمضان بخشش کا مہینہ ہے اس میں کچھ عرصہ برائیوں سے بچ جاؤ۔دوسروں کے حقوق کے تلفی سے احتراز کرو۔رمضان کے بعد دیکھی جائے گی تو اللہ تعالیٰ جو دلوں کا حال جاننے والا ہے ایسے لوگوں کی مغفرت کی طرف توجہ نہیں دیتا۔اللہ تعالیٰ نے تو صاف فرما دیا ہے کہ توبتہ النصوح کرو یعنی خالص تو بہ کرو۔کوئی دھو کے والی بات نہ ہو۔خدا تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔جب یہ تین باتیں تو بہ کرنے والا اپنے اندر پیدا کرے گا تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطا کرے گا۔یہاں تک کہ وہ سیئات اس سے قطعاً زائل ہو کر اخلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ اس کی جگہ لے لیں گے اور یہ فتح ہے اخلاق پر۔اس پر قوت اور طاقت بخشا اللہ تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے۔تو یہ بچی تو بہ جو برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیتی ہے اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی فرمایا ہے۔فرماتا ہے مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأَوْلَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيَاتِهِمْ حَسَنتٍ۔وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (الفرقان:71) یعنی جو تو بہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل بجالائے پس