خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 384 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 384

خطبات مسرور جلد ششم 384 خطبه جمعه فرموده 19 ستمبر 2008 فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے۔سو اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مستغفر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے“۔ریویو آف ریلیجنز جلد 1 نمبر 5 مئی 1902ء صفحہ 188-187) یعنی جو استغفار کر رہا ہے اس کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ بشری کمزوری کبھی ظاہر نہ ہو۔انسان ہے، بشر ہے کمزوریاں ظاہر ہوتی ہیں۔شیطان ہر وقت حملے کی تاک میں ہے۔جب انسان روحانی لحاظ سے کمزور ہوتا ہے تو شیطان فوراً حملہ کرتا ہے۔اس لئے شیطان سے بچنا اسی وقت ممکن ہے جب مسلسل انسان استغفار کرتار ہے اور مسلسل خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش میں رہے تبھی اللہ تعالی کی حمایت اور نصرت کے حلقے میں ایک انسان رہ سکتا ہے۔ورنہ جیسا کہ ایک جگہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ شیطان تو انسان کی رگوں میں خون کے ساتھ دوڑ رہا ہے جہاں کمزوری آئی شیطان نے حملہ کیا۔پس یہ مغفرت اور بخشش کے دن تبھی ہمیں فائدہ دیں گے جب ہم ان دنوں کے فیض کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی کوشش کریں گے۔اپنی کمزوریوں پر نظر رکھتے ہوئے استغفار سے اُن کا علاج کرتے رہیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ کے حلقے میں رہیں۔ورنہ جس طرح بعض بیماریاں انسانی جسم میں علاج کے باوجود مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ ڈورمنٹ (Dormant) ہو جاتی ہیں یعنی بظاہر ان کے اثرات نہیں لگتے لیکن کسی وقت دوبارہ ایکٹو (Acitve) ہو کر وہ بیماریاں پھر ابھر آتی ہیں۔جب کوئی بیماری آئے جسم کمزور ہو تو ایسی سوئی ہوئی بیماریاں پھر جاگ اٹھتی ہیں اور حملہ کرتی ہیں اسی طرح انسان کی نفسانی ، روحانی، اخلاقی بیماریاں ہیں۔اگر انسان اللہ تعالیٰ کے حکموں پر مکمل چلنے کی کوشش نہ کرتا رہے، استغفار اور تو بہ سے اپنی ان حالتوں کو ، ان بیماریوں کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے دبائے نہ رکھے تو پھر یہ اپنے اثرات دکھا کر انسان کو پہلی حالت کی طرف لے جانے کی کوشش کرتی ہیں۔پس استغفار صرف گناہوں سے بخشش کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ آئندہ گناہوں سے بچانے کے لئے بھی ضروری ہے تا کہ فطرتی کمزوری کمزور پڑتی جائے اور انسان مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی رضا پر قدم مارنے والا ہو۔یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلسل کوشش کے ساتھ اور ہمیشہ کوشش کے ساتھ استغفار کی طرف متوجہ رہنے کا حکم فرمایا اور پھر سال میں ایک دفعہ ہمیں ایک intensive یا جامع قسم کے پروگرام سے گزارتا ہے تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کا مزید قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ایک دفعہ جب اس کے حلقے میں آگئے تو اس حلقے کے اندر جو مزید درجے ہیں، انہیں حاصل کرنے کی کوشش کریں۔پس اس ٹارگٹ کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم اللہ تعالیٰ کی بخشش کے طالب ہوں گے تو تبھی یہ عشرہ جو گزررہا ہے ہمارے گناہوں اور غلطیوں کو ڈھانکتے ہوئے ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب لانے والا ہوگا۔اگر صرف یہی مطلب لیا جائے کہ اس عشرے میں روزے رکھ کر نماز میں پڑھ کر یا کچھ فل