خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 383 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 383

383 خطبه جمعه فرموده 19 ستمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم پس خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جنہوں نے رمضان کے ان گزرے دنوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت سے فائدہ اٹھایا۔ابھی بھی وقت ہے ان دنوں سے فیض پانے کا ،۔جب انسان عاجز ہو کر اس کی طرف جھکتا ہے تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس طرح کوئی بھی تم پر رحم نہیں کرتا جس طرح میں کرتا ہوں۔جو شخص مجھے ڈھونڈے گا وہ مجھے پائے گا۔پس اللہ کی رحمت کے حصول کے لئے مغفرت کے حصول کے لئے اسے ڈھونڈنے کی ضرورت ہے اور وہ یہ بھی اعلان کر رہا ہے کہ جو تلاش میں آئے گا عام حالات میں بھی لیکن خاص طور پر ان دنوں میں، وہ میرا دروازہ کھلا ہوا پائے گا۔میں چھپا ہوا نہیں ،سامنے ہوں اور دروازہ بھی کھلا ہے۔قرآن کریم میں جب رمضان کے روزوں کی تاکید کی گئی تو ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قریب کا لفظ استعمال کیا۔تو اللہ تعالیٰ قریب ہے اور دروازہ کھلا ہوا ہے۔فرماتا ہے آؤ اور میری مغفرت کی پناہ میں آ جاؤ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا تو مخلوق کے لئے عام حالات میں بھی غضب بہت کم ہے اور رحم زیادہ ہے۔ان دنوں میں تو اور بھی بڑھ کر رحمت کے دروازے کھولتا ہوں اور مغفرت میں ڈھانپ لیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ کہہ کر کہ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا (النساء:65) کہ وہ ضرور اللہ تعالیٰ کو تو بہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا پاتے ، اس پر ایک طرح کا افسوس کا اظہار کیا ہے کہ میں جواننا رحیم وکریم ہوں ہمیں تو یہ قبول کرنے والا ہوں ، اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹنے والا ہوں لیکن انسان پھر بھی اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے اور بخشش طلب نہیں کرتا۔پس اللہ تعالیٰ کا بار بار مختلف ذریعوں سے استغفار کی طرف توجہ دلا نا یہ بتارہا ہے کہ بندے کی استغفار اللہ تعالیٰ کی رحمت کو ضرور بالضرور جذب کرتی ہے۔وہ لوگ غلط ہیں جو کہتے ہیں کہ استغفار انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا۔یہ آنحضرت ﷺ کی حدیث بھی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر آتا ہوں۔اسی طرح قرآن کریم میں خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت : 70) اور وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنے رستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے۔پس استغفار اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کا ایک رستہ ہے۔لیکن استغفار ہے کیا ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں اس کے معنے بیان کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: استغفار کے حقیقی اور اصلی معنی یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا