خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 382
خطبات مسرور جلد ششم 382 خطبه جمعه فرموده 19 ستمبر 2008 بندے بخشش مانگتے ہوئے اس کے آگے جھکیں اور بخشے نہ جائیں۔اصل میں تو یہ رحمت ، بخشش اور آگ سے نجات ایک ہی انجام کی کڑیاں ہیں اور وہ ہے شیطان سے دُوری اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنا۔اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہی ایک انسان کو روزے رکھنے کی توفیق ملاتی ہے۔عبادت کی بھی توفیق ملتی ہے۔اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے جائز کام چھوڑنے کی بھی توفیق ملتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ تمام پچھلی کو تا ہیاں ،غلطیاں اور گناہ معاف فرماتے ہوئے ایسے انسان کو پھر اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لیتا ہے۔یہ مغفرت بھی خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہی ہے۔مغفرت کے بعد خدا تعالیٰ کی رحمت ختم نہیں ہوتی بلکہ مغفرت اور تو بہ کا تسلسل جو ہے یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل سے جاری ہوتا ہے اور جب یہ تسلسل جاری رہتا ہے تو ایک انسان جو خالصتا اللہ تعالیٰ کا ہونے کی کوشش کرتا ہے پھر اس سے ایسے افعال سرزد ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو جذب کرنے والے ہوں۔ایسے اعمال صالحہ بھی بجالاتا ہے جن کے بجالانے کا خدا تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اور نتیجتا پھر آگ سے نجات پاتا ہے۔جب تسلسل کے ساتھ استغفار اور گناہوں سے بچنے کی کوشش ہو، اللہ تعالی کی رحمت کا اُس استغفار کی وجہ سے مومن نظارہ کر رہا ہو، اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں سے فیض پا رہا ہو تو پھر وہ نجات پا گیا۔پھر اس کو آگ کس طرح چھو سکتی ہے۔پس یہ رمضان کے تین عشرے جو بیان ہوئے ہیں یہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور اعمال سے مشروط ہیں۔صرف رمضان کا مہینہ یا سحری اور افطاری کے درمیان کھانا نہ کھانا انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت مغفرت اور آگ سے نجات کا حقدار نہیں بنا دیتا۔پس جب خدا تعالیٰ اپنے بندے کو ان باتوں کے حاصل کروانے کے لئے رمضان کے مہینے میں ایک خاص ماحول پیدا فرماتا ہے، شیطان کو جکڑ دیتا ہے اور دعائیں سننے کے لئے اپنے بندوں کے قریب ہو جاتا ہے تو پھر ان کے حصول کی بندوں کو زیادہ سے زیادہ کوشش بھی کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں یہ جو خدا نے فرمایا ہے کہ اے بندو ! مجھ سے ناامید مت ہو۔میں رحیم وکریم اور ستار اور غفار ہوں اور سب سے زیادہ تم پر رحم کرنے والا ہوں اور اس طرح کوئی بھی تم پر رحم نہیں کرے گا جو میں کرتا ہوں۔اپنے باپوں سے زیادہ میرے ساتھ محبت کرو کہ درحقیقت میں محبت میں ان سے زیادہ ہوں۔اگر تم میری طرف آؤ گے تو میں سارے گناہ بخش دوں گا اور اگر تم تو بہ کرو تو میں قبول کروں گا اور اگر تم میری طرف آہستہ قدم سے بھی آؤ تو میں دوڑ کر آؤں گا۔جو شخص مجھے ڈھونڈے گا وہ مجھے پائے گا اور جو شخص میری طرف رجوع کرے گا وہ میرے دروازے کو کھلا پائے گا۔میں تو بہ کرنے والے کے گناہ بخشتا ہوں ، خواہ پہاڑوں سے زیادہ گناہ ہوں۔میر ارحم تم پر بہت زیادہ ہے اور غضب کم ہے کیونکہ تم میری مخلوق ہو۔میں نے تمہیں پیدا کیا ہے ، اس لئے میر ارحم تم سب پر محیط ہے۔پس اللہ تعالیٰ جو عام حالات میں اتنا رحم کرنے والا ہے تو رمضان میں اس کی رحمت کس طرح برس رہی ہوگی اس کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔