خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 371
خطبات مسرور جلد ششم 371 خطبه جمعه فرمودہ 12 ستمبر 2008 پس یہ شہید کا مقام ہے۔احیاء جو حسی کی جمع ہے اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جس کی زندگی کا عمل ضائع نہیں جاتا۔پس شہید کا قتل اس اعلیٰ حیات کو فوری پالیتا ہے جیسا کہ حدیث سے بھی ظاہر ہے۔جس کے پانے کے لئے ہر مرنے والا ایک درمیانی عرصے سے گزرتے ہوئے پہنچتا ہے اور وہ عرصہ ہر ایک کی روحانی حالت کے لحاظ سے ہے۔کوئی اسے جلد حاصل کر لیتا ہے اور کوئی دیر سے حاصل کرتا ہے۔احیاء کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جس کا بدلہ لیا جائے۔پس اللہ تعالیٰ دشمن کو فرماتا ہے کہ تم نے ایک زندگی ختم کر کے یہ سمجھ لیا کہ ہم نے بڑا ثواب کما لیا اور ہم نے جماعت کو کمزور کر دیا لیکن یاد رکھو کہ مرنے والے نے شہادت کا رتبہ حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب تو پا ہی لیا ہے لیکن اس کی شہادت بغیر بدلے کے نہیں جائے گی۔پس غور سے سن لو کہ بے خوں شہیدان ملت کا اے کم نظر رائیگاں کب گیا تھا کہ اب جائیگا آج بھی ہر شہید کے خون کے ایک ایک قطرے کا خدا تعالیٰ خود انتقام لے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلكِن لَّا تَشْعُرُونَ۔یہ دنیا والے ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے۔تمہاری عقل تو ایسی ماری گئی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھنے کے، باوجود اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے کے، ایسی حرکتیں کر کے تم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لے رہے ہو۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَلِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ( النساء:94) اور جو شخص کسی مومن کو دانستہ قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہوگی وہ اس میں دیر تک رہتا چلا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگا اور اسے اپنے سے دور کر دے گا اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر دے گا۔اور مومن کی تعریف آنحضرت ﷺ نے ایک جگہ بیان فرما دی۔ایک روایت میں آتا ہے، اسامہ بن زید اور ایک انصاری نے ایک موقع پر ایک کافر کا تعاقب کیا جب اس کو پکڑ کر مغلوب کر لیا تو اس نے کلمہ پڑھ لیا۔اسامہ کہتے ہیں کہ میرے انصاری دوست نے تو اس کو کچھ نہیں کہا وہ اس پر ہاتھ اٹھانے سے رک گیا لیکن میں نے اسے قتل کر دیا۔واپسی پر جب آنحضرت مہ سے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا اے اسامہ! کلمہ توحید پڑھ لینے کے بعد بھی تو نے اسے قتل کر دیا۔کیا تو نے اس کے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی قتل کر دیا۔اور بار بار آپ نے یہ الفاظ دوہرائے۔اس پر میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! اس نے تلوار کے خوف سے کلمہ پڑھا تھا۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا کہ اس نے دل سے کہا ہے یا تلوار کے خوف سے کہا ہے ؟۔اس پر میں نے خواہش کی کہ آج سے پہلے میں مسلمان نہ ہوا ہوتا۔(صحیح مسلم۔کتاب الایمان۔باب تحریم مقتل الکافر بعدان قال لا الہ الا اللہ حدیث 179)