خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 359
خطبات مسرور جلد ششم 359 خطبہ جمعہ فرمودہ 5 ستمبر 2008 میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔میں دعا کرنے والوں کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔آج کل ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے رمضان میں سے گزر رہے ہیں اور یہ مہینہ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، روزوں کا مہینہ ہے اور جیسا کہ جو آیات میں نے تلاوت کی ہیں ان سے واضح ہے کہ یہ روزے بغیر کسی مقصد کے نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے تقویٰ میں ترقی ، ان کی روحانیت میں اضافہ، انہیں اپنے قرب سے نواز نے اور انہیں دعاؤں کی قبولیت کے طریق اور حقیقت بتانے کے لئے ایک تربیتی کورس کے طور پر یہ روزے فرض فرمائے ہیں۔پہلی آیت جو میں نے تلاوت کی ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزے اس لئے فرض ہیں تا کہ تم تقویٰ اختیار کر و یعنی ہر قسم کی برائیوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاؤ۔ایک حدیث میں آتا ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے۔(جامع ترمذی۔باب ما جاء فی فضل الصوم حدیث نمبر (764) پس جب اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے روزے کو اپنی ڈھال بناؤ گے تو خدا تعالیٰ خود تمہاری ڈھال بن جائے گا۔اور نہ صرف بڑے بڑے گناہوں سے بچائے گا بلکہ ہر قسم کے چھوٹے گناہوں سے اور چھوٹی چھوٹی پریشانیوں سے بھی بچائے گا۔ہر شر سے بھی بچو گے اور نیکیاں کرنے کی توفیق بھی پاؤ گے۔لیکن شرط یہ ہے کہ اپنے آپ کو ان تمام شرائط کا بھی پابند رکھو جو روزے کے ساتھ وابستہ ہیں۔اس کے بارہ میں یہ حکم ہے کہ جب تم روزہ رکھو تو تمہارے کان، آنکھ، زبان، ہاتھ اور ہر عضو بھی روزہ رکھے۔یعنی ڈھال فائدہ مند تبھی ہوگی جب اس کا استعمال بھی آتا ہو گا۔صرف روزہ رکھنا، تقویٰ کے معیار حاصل نہیں کروا دے گا بلکہ اس کے لئے اپنے آپ کی تربیت بھی کرنی ہو گی ، اپنے آپ کو ڈھالنا ہوگا ، اپنے آپ کو ڈسپلنڈ (Disciplined) کرنا ہوگا، ان شرائط کا پابند کرنا ہوگا جوخدا تعالیٰ نے رکھی ہیں۔جیسا کہ انگلی دو آیات سے بھی ظاہر ہے کہ مریض یا مسافر ہونے کی حالت میں روزہ جائز نہیں ہے بلکہ ایسی حالت میں روزہ نہ رکھنے اور دوسرے دنوں میں پورا کرنے کا حکم ہے۔کیونکہ تقویٰ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنے میں ہے نہ کہ فاقہ کرنے میں۔پھر قرآن کریم کا پڑھنا، اس کے احکامات پر عمل کرنا بھی ضروری ہے اور بے شمار احکامات ہیں جو قرآن کریم میں درج ہیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک اوامر و نواہی اور احکام الہی کی تفصیل موجود ہے اور کئی سو شاخیں مختلف قسم کے احکام کی بیان کی ہیں۔پس تقویٰ کا حصول اس ڈھال